مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – 12 ستمبر کو امریکی ریاست یوٹاہ کے گورنر اسپینسر کاکس نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ چارلی کرک کے قتل کے مقدمے میں ایک مشتبہ شخص، ٹائلر رابنسن، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
کاکس نے اس موقع پر واقعے کے بارے میں مختصر خاکہ پیش کیا اور کہا کہ ان سب کا شکریہ جنہوں نے ملزم کی نشاندہی اور انصاف کی فراہمی میں مدد کی۔ ان کے بقول یہ ایک تاریک باب تھا جس پر اب بندش ڈالنے کا موقع ملا ہے۔
تاہم متعدد مبصرین کے نزدیک کاکس کی باتوں میں وقت سے پہلے حتمی انداز پایا گیا، گویا وہ عدالت کے فیصلے کے بعد دی جانے والی تقریر کر رہے ہوں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ موجود نہیں، نہ ہی گولی یا اسلحہ کی براہ راست مطابقت سامنے آئی ہے، اور نہ ہی کوئی ایسی ویڈیو جاری ہوئی ہے جس میں رابنسن کو واردات کرتے یا ہتھیار کے ساتھ دکھایا گیا ہو۔
انٹرنیٹ پر شہری تفتیش کاروں اور یوٹیوب و سوشل میڈیا صارفین نے اس سرکاری بیانیے میں پائے جانے والے تضادات کو نشانہ بنایا ہے۔ مختلف ویڈیوز اور تبصرے لاکھوں ناظرین کو متوجہ کر رہے ہیں۔ قدامت پسند تجزیہ کار کینڈس اوونز اس معاملے میں سب سے نمایاں ناقد کے طور پر ابھری ہیں، جن کے پوڈکاسٹس لاکھوں کی تعداد میں دیکھے جا رہے ہیں۔
RT نے ان پانچ بڑے سوالات پر روشنی ڈالی ہے جو اس کیس کے بارے میں سب سے زیادہ گردش کر رہے ہیں۔
ماوزر 30-06 رائفل کے دعوے پر شکوک کیوں؟
تحقیق کاروں نے جائے وقوعہ کے قریب ایک ماوزر 30-06 رائفل برآمد کی اور کہا کہ یہی کرک کے قتل کے لیے استعمال ہوئی۔ الزام یہ بھی ہے کہ رابنسن نے اپنے رُوم میٹ اور ساتھی لانس ٹوگز کو بھیجے گئے پیغامات میں اس رائفل کا ذکر کیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اس کے دادا کی ملکیت تھی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رائفل عام طور پر بڑے جانوروں کے شکار کے لیے استعمال ہوتی ہے اور کرک کو لگنے والا زخم اس طاقتور ہتھیار کے اثرات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بعض ماہرین اسلحہ نے وضاحت کی کہ 30-06 کی براہِ راست گولی گردن کا بڑا حصہ اڑا دیتی، جسم کے پار نکل جاتی اور خون کے چھینٹے پیچھے پردے پر نمایاں ہوتے۔
مزید یہ کہ رابنسن کی کوئی تصویر یا ویڈیو اس رائفل کے ساتھ موجود نہیں، حتیٰ کہ جب اسے یونیورسٹی کی عمارت لوزی سینٹر کی چھت سے کودتے ہوئے دیکھا گیا تو بھی وہ ہتھیار اس کے پاس نظر نہیں آیا۔
اخراجی زخم کیوں نہیں تھا؟
اسلحہ سے متعلق شکوک کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ کرک کے جسم میں کوئی اخراجی زخم نہیں پایا گیا۔ اس تضاد نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی۔ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے ترجمان اینڈریو کولویٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ایک سرجن نے انہیں بتایا تھا کہ اس نوعیت کی گولی عام طور پر جسم کے آر پار ہو جاتی ہے اور ہر رکاوٹ توڑ دیتی ہے، لیکن اس معاملے میں ایسا نہ ہونا "ایک معجزہ” ہے۔
کئی ناقدین نے اس وضاحت کو ناقابلِ یقین قرار دیا اور کہا کہ یہ کرک کی موت کو غیر فطری انداز میں ہیرو بنانا ہے۔ کوئی باضابطہ پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔
یوٹیوب چینل مِسٹر گنز اینڈ گئیر کے میزبان مائیک نے اس سرکاری وضاحت کو "ہزار میں ایک” امکان سے بھی کم قرار دیا۔ کولویٹ کے بیان پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں بیشتر تبصرہ نگاروں نے ان کے مؤقف کو مسترد کیا۔
چھت کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں گولی چلانے کا منظر کیوں غائب ہے؟
ایف بی آئی نے جو ویڈیو جاری کی اس میں ایک شخص کو چھت پر دوڑتے اور پھر عمارت سے کودتے دکھایا گیا ہے، لیکن اصل فائرنگ کے وقت کی کوئی ریکارڈنگ نہیں دکھائی گئی، حالانکہ کیمرہ پورے چھت کا احاطہ کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر گولی وہیں سے چلائی گئی تھی تو فوٹیج میں ملزم کو ہتھیار سمیت کیوں نہیں دکھایا گیا؟ ناقدین کے مطابق فوٹیج کو اس طرح ایڈٹ کیا گیا کہ صرف دوڑنے کا منظر سامنے آئے۔ اس تضاد نے اس شبہے کو بڑھا دیا ہے کہ ممکن ہے گولی سامنے سے چلائی گئی ہو۔
جائے وقوعہ فوراً کیوں نہ سیل کی گئی؟
ایک اور بڑا سوال یہ ہے کہ قتل کے مقام کو فوری طور پر محفوظ کیوں نہ کیا گیا؟
ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ ایک شخص نے وہ کیمرہ اتار لیا جو کرک کے پیچھے نصب تھا، حتیٰ کہ اس مقصد کے لیے کرک کی کرسی بھی ہٹائی۔ پھر اس نے ایس ڈی کارڈ نکالا اور کیمرہ ساتھ لے گیا۔ کینڈس اوونز نے اس شخص کو TPUSA کا ملازم بتایا۔ اس نے کہا کہ اس نے فوٹیج محفوظ کر کے حکام کے حوالے کی، مگر عوام کے سامنے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
یوٹاہ میں جائے وقوعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو قانونی جرم سمجھا جاتا ہے، لیکن اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مزید برآں، فاکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف چار دن بعد جائے وقوعہ پر تعمیر نو شروع کر دی گئی، گھاس ہٹا کر نئی پختہ زمین ڈال دی گئی۔ یہ تیزی بھی عوامی سوالات کو مزید بڑھا رہی ہے۔
رابنسن کے مبینہ پیغامات نے شبہات کیوں پیدا کیے؟
استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ٹیکسٹ پیغامات بھی مشکوک قرار دیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا لہجہ غیر فطری ہے اور استعمال ہونے والے الفاظ رابنسن کی نسل کے نوجوانوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
مزید یہ کہ رابنسن نے ان پیغامات میں بار بار اپنے جرم کا اعتراف کیا، حالانکہ دعویٰ یہی ہے کہ اس نے شواہد نہ چھوڑنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پیغامات کے کوئی ٹائم اسٹیمپ بھی جاری نہیں کیے گئے۔
یہ سوالات امریکی عوام کے ایک بڑے حصے کو اس سرکاری کہانی پر شکوک میں مبتلا کر رہے ہیں، اور چارلی کرک کے قتل کا معاملہ اب بھی متعدد تضادات کے باعث بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔

