پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیجنوبی افریقہ کا امریکہ سے اہم تجارتی معاہدے کی تجدید کا مطالبہ

جنوبی افریقہ کا امریکہ سے اہم تجارتی معاہدے کی تجدید کا مطالبہ
ج

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ افریقن گروتھ اینڈ اپرچونیٹی ایکٹ (AGOA) کی تجدید کرے، خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی مدت رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے سے نہ صرف جنوبی افریقہ کی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ امریکہ اور افریقہ کے درمیان عشروں پر محیط تجارتی پیش رفت بھی متاثر ہوگی۔

رامافوسا نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ جنوبی افریقہ۔امریکہ تجارت و سرمایہ کاری ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پچیس برسوں سے AGOA امریکی-افریقہ تجارت کی بنیاد رہا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے تحت جنوبی افریقہ میں آٹو اسمبلی پلانٹس سے لے کر زرعی شعبے اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ مراکز تک لاکھوں افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی معیاد ختم ہونے سے نہ صرف یہ فوائد ضائع ہوں گے بلکہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرینسز (GSP) سے تعلق بھی ختم ہو جائے گا، جو کئی برآمد کنندگان کے لیے نہایت اہم ہے۔

رامافوسا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی منڈی تک پیشگی اور ترجیحی رسائی نہ صرف جنوبی افریقہ بلکہ ان امریکی کمپنیوں کے لیے بھی ناگزیر ہے جو بھروسہ مند درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی افریقہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم تجارتی کشیدگی کے حل پر زور دیا۔ ان کے مطابق محصولات صرف ایک فریق کو متاثر نہیں کرتے بلکہ دونوں ممالک کی صنعتوں اور برادریوں پر اثر ڈالتے ہیں۔

امریکہ افریقہ سے باہر جنوبی افریقہ کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ رامافوسا نے بتایا کہ امریکہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ ہے، جو لاکھوں براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتا ہے۔ اس وقت 600 سے زائد امریکی کمپنیاں جنوبی افریقہ میں مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں، جن میں ایرو اسپیس، کان کنی و توانائی، صارفین کی اشیاء اور مالیاتی خدمات شامل ہیں۔

صدر نے کہا کہ جنوبی افریقی کمپنیاں بھی امریکہ میں اپنی موجودگی قائم کر چکی ہیں، جن کا دائرہ کار کیمیکلز، مالیاتی خدمات، کان کنی، مہمان نوازی اور خوراک تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ کمپنیاں جنوبی افریقہ کی کاروباری روح، جدت اور عالمی مسابقتی صلاحیت کی نمائندہ ہیں۔

رامافوسا نے کہا کہ اس ڈائیلاگ کو قلیل مدتی مسائل سے آگے بڑھ کر مشترکہ ترجیحات پر مرکوز ہونا چاہیے تاکہ تجارتی بہاؤ کو وسعت دی جا سکے، کمپنیوں کو مسابقتی رکھا جا سکے اور دونوں ممالک کے صارفین و کارکنان اس شراکت داری سے مستفید ہوں۔

انہوں نے مستقبل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ، 1.4 ارب افراد پر مشتمل افریقی براعظم کی منڈی تک رسائی کے لیے امریکہ کے لیے بہترین داخلی دروازہ ہے۔ ان کے بقول جنوبی افریقہ کے پاس وہ انفراسٹرکچر، مالیاتی نظام، قانونی و ریگولیٹری ڈھانچے اور علاقائی روابط موجود ہیں جو امریکی کمپنیوں کو براعظم میں توسیع کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔

رامافوسا نے ان شعبوں کا ذکر کیا جو تعاون کے لیے موزوں ہیں، جن میں سبز توانائی، زراعت، دواسازی اور ڈیجیٹل جدت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ ایسی شراکت داری چاہتا ہے جو امریکی سرمایہ کاری کو قابل تجدید توانائی منصوبوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور گرین ہائیڈروجن اکانومی میں لے کر آئے۔

اسی طرح انہوں نے دواسازی اور صحت کے شعبے میں عالمی سپلائی چینز کو مستحکم کرنے کی صلاحیت کا ذکر کیا۔

تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے رامافوسا نے اعلان کیا کہ ایک جنوبی افریقہ۔امریکہ تجارت و سرمایہ کاری فورم قائم کیا جا رہا ہے، جس کا پہلا اجلاس آئندہ برس جنوبی افریقہ میں منعقد ہوگا۔ یہ اجلاس جنوبی افریقہ انویسٹمنٹ کانفرنس کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری صرف تجارتی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ مشترکہ اقدار پر مبنی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ مالیاتی خدمات، کان کنی کی ٹیکنالوجی اور آٹوموٹیو مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں مزید گہری شراکت داری قائم کی جائے اور جنوبی افریقہ کو ایک قابل بھروسہ پروڈکشن حب اور افریقہ کے داخلی دروازے کے طور پر مستحکم کیا جائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین