قامشلی، شام(مشرق نامہ) (نورپریس) – اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ دمشق کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور کسی بھی نتیجے کا انحصار اسرائیل کے مفادات کے تحفظ پر ہوگا۔
اپنے دفتر سے جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ان مفادات میں جنوب مغربی شام میں غیر مسلح کرنا (ڈس آرمامنٹ) اور ملک میں دروز کمیونٹی کی سلامتی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
21 ستمبر کو نیتن یاہو نے شام کی عبوری حکومت کے ساتھ مذاکرات میں "تقدم” کو تسلیم کیا تھا لیکن خبردار کیا تھا کہ حتمی معاہدے تک پہنچنا ابھی "بہت دور” ہے۔
ادھر شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اسرائیل پر سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ وہ دسمبر 2024 میں سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے شام کو دھمکیاں دیتا آ رہا ہے۔
الشرع نے کہا:
"اسرائیل کی پالیسیاں شام اور اس کے عوام کے لیے عالمی برادری کی حمایت کے منافی ہیں، جو خطے کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور اسے غیر متوقع تنازعات کی طرف دھکیل رہی ہیں۔”

