پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامییمن کے دارالحکومت پر اسرائیلی فضائی حملے، حوثی رہنما نے غزہ جنگ...

یمن کے دارالحکومت پر اسرائیلی فضائی حملے، حوثی رہنما نے غزہ جنگ کو نسل کشی قرار دیا
ی

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اسرائیلی فوج نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر فضائی حملے کیے ہیں، المسیرہ ٹی وی نے اطلاع دی کہ حملوں کے بعد شہر پر دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

جمعرات کو اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں جنگی طیاروں اور فضائی یونٹس نے مبینہ طور پر "حوثی جنرل اسٹاف کے کمانڈ ہیڈکوارٹرز” اور گروپ کے "سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کمپاؤنڈز” کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ "طاقتور حملوں” میں "حوثی دہشت گردوں کے درجنوں آپریٹیوز” مارے گئے۔ تاہم حوثی میڈیا کے مطابق صرف دو افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوئے۔

یہ حملے اس وقت ہوئے جب حوثی رہنما عبدالملک الحوثی براہِ راست تقریر کر رہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ "فوجی پروپیگنڈہ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز” اور ہتھیار ذخیرہ کرنے والے فوجی کیمپ بھی ہدف تھے۔ فوج کے مطابق یہ حملے اسرائیل پر حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

بدھ کے روز حوثیوں نے اسرائیل کے بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر ایلات کے ایک ہوٹل پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے یمن کے اہم بندرگاہی شہر الحدیدہ پر 12 حملوں کے بعد کیا گیا۔

جمعرات کی تقریر میں عبدالملک الحوثی نے اسرائیل پر "وحشیانہ جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی” کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا:
"اس ہفتے امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی اور اسرائیلی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کو ویٹو کیا، جس سے اسرائیل کو مزید جرائم کرنے کی شہ ملی ہے۔”

انہوں نے فلسطینی گروہوں کو بھی سراہا جنہوں نے ان کے بقول "انتہائی محدود وسائل کے باوجود اسرائیلی افواج کے خلاف شاندار کارروائیاں کی ہیں۔”

صنعاء کے رہائشیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی حملے دارالحکومت کے جنوب اور مغرب کے علاقوں پر کیے گئے۔

یمن پر اسرائیلی حملے معمول بن چکے ہیں جو عام طور پر تباہ کن ثابت ہوتے ہیں، ان میں شہری تنصیبات جیسے رہائشی عمارتیں اور مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ بھی شامل ہوتے ہیں، اور اکثر درجنوں افراد مارے جاتے ہیں۔

اس ماہ کے آغاز میں اسرائیلی حملوں میں صنعاء اور صوبہ الجوف میں 40 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں صحافی اور بچے بھی شامل تھے۔

اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت شروع ہونے کے بعد سے حوثی اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہیں اور یہ اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک غزہ میں مستقل جنگ بندی نہیں ہو جاتی۔ حوثی بحیرہ احمر میں جہازوں اور کارگو ویسلز کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔

حوثیوں کے ان حملوں کے جواب میں امریکہ اور برطانیہ بھی یمن پر فضائی کارروائیاں کر چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین