واشنگٹن (مشرق نامہ) وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون سمیت اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم ہاؤس کے مطابق یہ ملاقات جمعہ کی صبح اوول آفس میں ہوئی، جہاں وزیراعظم کے ہمراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی تھے، جبکہ صدر ٹرمپ کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز نے پاکستان کے کردار پر ٹرمپ کی تعریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سلامتی اور انٹلیجنس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے مئی میں ہندوستان کے ساتھ فوجی تصادم کے دوران جنگ بندی کروانے میں صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہا، جس سے جنوبی ایشیا میں بڑی تباہی ٹلی۔ انہوں نے ٹرمپ کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
معاشی تعاون پر بات چیت کے دوران وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کی زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بھی غور کیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات، جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی، دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی گرمجوشی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ جبکہ میڈیا سے بات چیت میں صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں کو "عظیم رہنماء” قرار دیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں، جہاں وہ آج کو خطاب کریں گے۔ اس سے قبل، انہوں نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور علاقائی روابط کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔

