کوپن ہیگن (مشرق نامہ) – ڈنمارک کے وزیردفاع ٹرولس لنڈ پاؤلسن نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد ڈینش ہوائی اڈوں پر دکھائی دینے والے ڈرونز ایک "ہائبرڈ حملے” کا حصہ ہیں، جو بظاہر کسی پیشہ ور فریق کی جانب سے منظم انداز میں کیا گیا۔
وزیردفاع نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر اتنی منظم کارروائی ہو رہی ہے تو یہ کسی پیشہ ور فریق کا کام ہے۔ میں اسے مختلف اقسام کے ڈرونز کے ذریعے کیا گیا ہائبرڈ حملہ قرار دیتا ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ڈنمارک کو براہِ راست کوئی عسکری خطرہ لاحق نہیں اور نہ ہی اس وقت نیٹو کے آرٹیکل 4 کو فعال کرنے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے، جو رکن ممالک کے درمیان مشاورت کو لازمی بناتا ہے۔
دوسری جانب وزیرِ انصاف پیٹر ہمّلگارڈ نے کہا کہ ان واقعات کے بعد ڈنمارک اپنی ڈرونز کا پتا لگانے اور انہیں مار گرانے کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔
ڈرون کہاں دکھائی دیے؟
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پولیس کے مطابق ڈرونز آلبورگ ایئرپورٹ (شمالی ڈنمارک) اور ملک کے مزید تین چھوٹے ہوائی اڈوں کے اوپر دیکھے گئے۔ اس دوران آلبورگ ایئرپورٹ، جو ایک فوجی اڈہ بھی ہے، پر کئی گھنٹے پروازیں معطل رہیں۔
اس سے صرف دو روز قبل بھی کوپن ہیگن ایئرپورٹ کے قریب اسی نوعیت کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا، جسے پولیس نے "بہت قابل فریق” کی کارروائی قرار دیا۔ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرِکسَن نے کوپن ہیگن واقعے کو ملک کے تنصیبات پر "اب تک کا سب سے سنگین حملہ” قرار دیا۔
یہ ڈرون حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پولینڈ اور رومانیہ میں بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے اسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے، جس سے یوکرین پر روس کے جاری حملے کے تناظر میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

