پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیاقوام متحدہ میں یوکرین کی قرارداد کو صرف 36 ممالک کی حمایت

اقوام متحدہ میں یوکرین کی قرارداد کو صرف 36 ممالک کی حمایت
ا

نیویارک (مشرق نامہ) – یوکرین اور یورپی یونین کی جانب سے روس کی مذمت پر مبنی ایک مشترکہ بیان کو اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے صرف 36 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ امریکا نے اس موقع پر رائے شماری میں حصہ لینے سے گریز کیا۔

یہ بیان منگل کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس اور یوکرین کے وزیر خارجہ آندرے سبیگا نے پیش کیا۔ بیان میں روس کی کارروائیوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیا گیا اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ ماسکو پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالے اور یوکرین کی "بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ارضی سالمیت” کی حمایت کرے۔

مشترکہ بیان کی حمایت کرنے والے ممالک میں یورپی یونین کے 26 رکن ممالک (ہنگری کے سوا) شامل تھے، جب کہ دیگر حمایتی ممالک میں البانیا، انڈورا، آسٹریلیا، بوسنیا و ہرزیگووینا، کینیڈا، جاپان، موناکو، نیوزی لینڈ، ناروے اور برطانیہ شامل ہیں۔

اس سے قبل فروری میں، یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے پیش کی گئی ایک قرارداد سلامتی کونسل میں مسترد ہو گئی تھی۔ اس کے برعکس امریکا کی جانب سے تیار کردہ ایک متبادل قرارداد منظور کر لی گئی تھی، جس میں روس کو جارح قرار دینے سے گریز کیا گیا تھا اور صرف یوکرین تنازع کے "فوری خاتمے” پر زور دیا گیا تھا۔

اس وقت روس کے نائب سفیر برائے اقوام متحدہ دمیتری پولیانسکی نے اس نتیجے کو "عقل عام کی فتح” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ زیلنسکی حکومت کی اصل حقیقت کو پہچاننے لگے ہیں۔

ماسکو مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ یوکرین کی جنگ دراصل مغرب کی طرف سے روس کے خلاف ایک پراکسی جنگ ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ اگر کیف ان پانچ علاقوں کے دعوے سے دستبردار ہو جائے جو 2014 سے ریفرنڈمز کے ذریعے روس میں شامل ہو چکے ہیں، اپنی غیر جانبدار حیثیت کی توثیق کرے اور اپنی سرزمین پر روسی زبان بولنے والی آبادی کے حقوق کی ضمانت دے، تو جنگ ختم ہو سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین