ہمالیہ کے خطے لداخ کو بھارت کی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، مشرق میں چین اور مغرب میں پاکستان کے ساتھ اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ تاہم 2019 سے یہ خطہ براہِ راست مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام ہے، جس پر مقامی آبادی میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
بدھ کو یہ غصہ اس وقت پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہوا جب بھوک ہڑتالیوں میں سے دو افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ علاقے کے سب سے بڑے شہر لیہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق لیہ اپیکس باڈی کے شریک چیئرمین چیئرنگ دورجے نے بتایا کہ کم از کم پانچ مظاہرین جاں بحق اور ستر کے قریب زخمی ہوئے، جب کہ بھارتی وزارتِ داخلہ نے صرف ’’کچھ ہلاکتوں‘‘ کی تصدیق کی اور کہا کہ 30 سے زائد پولیس و سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
حکومت کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے اس وقت فائرنگ کی جب مظاہرین نے حملہ کیا اور سرکاری املاک کو آگ لگا دی۔ مقامی رہنماؤں نے بتایا کہ مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفتر کو نذرِ آتش کیا۔
یہ ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب معروف ماحولیاتی کارکن اور لداخ کی خودمختاری کی تحریک کے رہنما سونم وانگچک دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ ان کے ساتھ سینکڑوں افراد روزانہ کی بنیاد پر علامتی روزے رکھ رہے تھے۔ منگل کو دو بھوک ہڑتالیوں کی حالت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جس کے بعد نوجوان مظاہرین نے پتھراؤ اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ چیئرنگ دورجے کے مطابق قیادت نے انہیں روکنے کی بھرپور کوشش کی مگر حالات قابو سے باہر ہو گئے۔
بھارتی حکومت نے الزام عائد کیا کہ وانگچک نے مظاہرین کو بھڑکایا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی تقاریر میں عرب اسپرنگ اور نیپال کی حالیہ احتجاجی تحریکوں کا حوالہ دیا تھا۔ تاہم وانگچک نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد کے خلاف ہیں اور جھڑپوں کو لداخ کی ریاستی درجہ بندی کی تحریک کے لیے ایک ’’پسپائی‘‘ قرار دیا۔ بعدازاں بدھ کو وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔
یہ ان کا پہلا ایسا اقدام نہیں۔ 2023 میں وہ اور ان کے ساتھی 700 کلومیٹر کا مارچ کر کے دہلی پہنچے تھے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی تک بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اگلا دورِ مذاکرات 6 اکتوبر کو متوقع ہے۔
لداخ کی اسٹریٹیجک اہمیت
لداخ 2019 تک جموں و کشمیر کا حصہ تھا، مگر مودی حکومت نے اس کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے براہِ راست دہلی کے ماتحت کر دیا۔ جموں و کشمیر کو مقامی اسمبلی تو دی گئی، لیکن لداخ کو اس حق سے محروم رکھا گیا۔
اس دوران اس کی جغرافیائی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ 2020 میں لداخ کے گلوان وادی میں چین اور بھارت کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں، جن میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے۔ 2024 میں بھارت نے اعلان کیا کہ چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر گشت سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے، جو چار سالہ فوجی تناؤ کے خاتمے کی ایک بڑی پیش رفت تھی۔ بعد ازاں بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک سرحد پر 2020 سے پہلے کی صورتِ حال پر واپس آ گئے ہیں۔
لداخ کی خودمختاری کی تحریک کا موقف ہے کہ ریاستی درجہ بندی اور آئینی تحفظ کے بغیر مقامی آبادی زمین، روزگار اور سیاسی نمائندگی سے محروم ہو جائے گی۔ یہی خدشات لیہ میں حالیہ پرتشدد احتجاج کا محرک بنے۔

