مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) یوکرین پر روس کے کامیاب حملوں نے ایران کے تیار کردہ "شاہد” ڈرون کو جدید جنگ کا ایک اہم ہتھیار بنا دیا ہے۔ امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی تحریر میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی بیشتر افواج شاہد ڈرون بنانے کی دوڑ میں لگ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس ڈرون کی کم لاگت، طویل رینج اور درست نشانہ بازی کی صلاحیت نے فوجی حکمت عملی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ روس نے ایک ساتھ درجنوں ڈرون کے غول کی صورت میں حملہ آور ہو کر یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو ناکام بنا دیا، جس کے بعد مغربی ممالک بھی اب ایسے ہی سستے اور مؤثر ڈرون تیار کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شاہد ڈرون کی خاص بات اس کی کم قیمت ہے، جو محض 35 سے 40 ہزار ڈالر فی ڈرون کے درمیان ہے، جبکہ مغربی ممالک کے ڈرون لاکھوں ڈالر میں تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور چین کی دفاعی کمپنیاں اب "شاہد” جیسے ڈرون کی تیاری پر تیزی سے کام کر رہی ہیں۔
تاہم، مغربی ممالک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج لاگت کو کم رکھنا ہے، کیونکہ وہاں مہنگی لیبر اور اعلیٰ معیار کے مواد کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یوکرین جنگ نے ثابت کیا ہے کہ آج کی جنگوں میں سستے، کثیرالعدد اور درست ہتھیاروں کی افادیت روایتی مہنگے ہتھیاروں سے کہیں زیادہ ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق ایسے ڈرون بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک نئے قسم کا خطرہ بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کی فوجیں نئی حکمت عملیاں تیار کر رہی ہیں۔

