نیویارک، (مشرق نامہ) ستمبر (اے پی پی): اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک کثیرالجہتی سربراہی اجلاس میں امریکا، عرب لیگ اور تنظیم تعاونِ اسلامی (او آئی سی) کے رکن ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہنگامی رسائی اور بین الاقوامی تعاون کے تحت جامع تعمیرِ نو کے منصوبے کا مطالبہ کیا۔
یہ اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہل پر بلایا گیا، جس کی میزبانی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کی۔
اجلاس میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم ابن الحسین، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف، مصر کے وزیراعظم مصطفی کمال مدبولی، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان، اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے شرکت کی۔
عرب اور او آئی سی ممالک کے رہنماؤں نے اجلاس بلانے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
اپنے مشترکہ اعلامیے میں رہنماؤں نے غزہ کی ناقابلِ برداشت صورتحال، انسانی تباہی، بھاری جانی نقصان اور اس کے خطے کے ساتھ ساتھ پوری مسلم دنیا پر سنگین اثرات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے جبری بے دخلی کو مسترد کرتے ہوئے بے گھر ہونے والوں کی واپسی پر زور دیا۔
رہنماؤں نے جنگ کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ یرغمالیوں کی رہائی اور بڑی مقدار میں انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے، جو ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی جانب پہلا قدم ہوگا۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے ان کی قیادت کی اہمیت پر زور دیا۔
رہنماؤں نے مغربی کنارے اور بیت المقدس کے مقدس مقامات میں استحکام یقینی بنانے اور فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحی کوششوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ ایک عملی استحکام کے منصوبے پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکا نے غزہ میں تعمیرِ نو کے ایک جامع منصوبے کی ضرورت پر زور دیا، جو عرب اور او آئی سی کے منصوبے پر مبنی ہو، اور جس میں سلامتی کے انتظامات بھی شامل ہوں۔ انہوں نے عالمی تعاون کے ساتھ فلسطینی قیادت کی مدد کرنے اور مل کر منصوبوں کی کامیابی کو یقینی بنانے اور غزہ کے عوام کی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اجلاس کی رفتار کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ ایک ایسے عمل کی ابتدا ثابت ہو جو امن اور علاقائی تعاون کے مستقبل کی طرف درست سمت میں بڑھتا ہوا نظر آئے۔
اجلاس میں قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ، پاکستان اور اردن کے نائب وزرائے اعظم، اور ترکی، مصر اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی۔ صدر ٹرمپ کی ٹیم میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ و مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل تھے۔

