اسلام آباد(مشرق نامہ):اہم عرب ممالک کے رہنماؤں اور تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) کے اراکین نے، جو منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملے، بدھ کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں غزہ میں فوری جنگ بندی، تمام مغویوں کی رہائی اور جامع تعمیرِ نو کے منصوبے پر زور دیا۔
یہ سربراہی اجلاس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ کی پہل پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی میزبانی صدر ٹرمپ اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کی، جبکہ اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف، مصر کے وزیراعظم مصطفیٰ کمال مدبولی، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم شیخ عبداللہ بن زاید النہیان، اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے شرکت کی۔
عرب لیگ اور او آئی سی کے اہم رہنماؤں کے مشترکہ اعلامیے میں صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا گیا اور غزہ میں "ناقابلِ برداشت صورتحال” کی نشاندہی کی گئی، جس میں انسانی تباہی، بھاری شہری جانی نقصان اور خطے پر اس کے وسیع اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ رہنماؤں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کیا اور ان لوگوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جو لڑائی کے دوران بے گھر ہوگئے تھے۔
رہنماؤں نے جنگ بندی کی فوری ضرورت پر زور دیا جو انسانی امداد کی فراہمی اور مغویوں کی رہائی کو ممکن بنا سکے۔
انہوں نے واشنگٹن کی قیادت پر طویل المدتی امن عمل کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری بھی ڈالی۔ اعلامیے کے مطابق: انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعاون کے اپنے عزم کو دہرایا اور اس جنگ کے خاتمے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے اُن کی قیادت کی اہمیت پر زور دیا۔
شرکاء نے فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات کی کوششوں کی بھی حمایت کی اور مغربی کنارے اور یروشلم کے مقدس مقامات پر استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عرب اور او آئی سی کی قیادت میں ایک منصوبے کی حمایت کی، جسے عالمی سلامتی کے انتظامات اور مالی معاونت کے ساتھ منسلک کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کے ساتھ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت اُن کی اعلیٰ ٹیم موجود تھی۔
رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ یہ اجلاس امن اور علاقائی تعاون کی سمت ایک مستقل عمل کے آغاز کا سنگ میل ثابت ہونا چاہیے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے جامع منصوبے کو یقینی بنایا جائے، جس کی بنیاد عرب اور او آئی سی کے منصوبے پر ہو، اور بین الاقوامی معاونت فلسطینی قیادت کی حمایت کرے۔ انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ مل جل کر ان منصوبوں کو کامیاب بنائیں گے اور غزہ میں فلسطینیوں کی زندگیاں دوبارہ سنواریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس اجلاس کے بعد امن اور علاقائی تعاون کے عمل کو جاری رکھنا ضروری ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے آٹھ عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ کثیر فریقی ملاقات کے دوران غزہ جنگ کے خاتمے، باقی مغویوں کی رہائی اور غیر حماس حکمرانی کے تحت علاقے کی بحالی کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے عہد کیا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بعض عرب سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے منصوبے میں کئی ہفتوں کی جنگ بندی شامل ہے، جس کے دوران باقی 48 مغوی رہا کیے جائیں گے۔
سیاسی ویب سائٹ پولیٹیکو نے بتایا کہ ٹرمپ نے عرب رہنماؤں سے پُرزور انداز میں کہا کہ وہ مغربی کنارے کا الحاق نہیں ہونے دیں گے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی ٹیم نے ایک وائٹ پیپر پیش کیا، جس میں غزہ جنگ کے خاتمے اور مغربی کنارے پر قبضے کی مخالفت سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے کی تفصیلات شامل تھیں۔
اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی پر عالمی سطح پر شدید مذمت کا سامنا ہے، جہاں مقامی حکام کے مطابق 65,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور ایک عالمی بھوک مانیٹرنگ ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے کا کچھ حصہ قحط کا شکار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غزہ میں جلد جنگ بندی ہو جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے میں مزید تاخیر نہیں ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت دکھائی دے گی۔

