فلسطینیوں پر اسرائیلی جرائم کو نارمل ظاہر کرنے کے خلاف عالمی فٹبال تنظیموں پر دباؤ
مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے فیفا (FIFA) اور یوئیفا (UEFA) پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جرائم اور غزہ پر مسلط نسل کشی کو "جواز فراہم کرنے” اور "معمول کے طور پر پیش کرنے” کا سلسلہ ختم کریں۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں تنظیمیں اسرائیلی ٹیم کو مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت دیتی رہی ہیں۔
ماہرین نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں کہا کہ کھیلوں کو یہ تاثر رد کرنا ہوگا کہ حالات بدستور معمول کے مطابق ہیں۔
ان کے مطابق فیفا اور یوئیفا کو اپنی طاقت میں جو کچھ ممکن ہے وہ کرنا چاہیے تاکہ اسرائیل کی غیر قانونی موجودگی کو مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر نارمل ظاہر کرنے کا سلسلہ روکا جا سکے۔
انہوں نے خصوصی طور پر اکتوبر 2023 سے جاری نسل کشی کا حوالہ دیا جس میں اب تک تقریباً 65 ہزار 400 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ غزہ کی پٹی کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی کو اب ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی ٹیم کو بین الاقوامی فٹبال سے باہر کرنے کی مہم اس زمرے میں آنے والے مؤثر اقدامات میں شمار ہوگی۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے نشاندہی کی کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں حقیقی نسل کشی جاری ہے۔ مزید یہ کہ گزشتہ سال عالمی عدالت انصاف نے عبوری حکم میں تمام ممالک کو نسل کشی کے خلاف اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔
یہ بیانات اسرائیلی جرائم کے خلاف بڑھتی ہوئی بائیکاٹ اور سرمایہ کاری ختم کرنے کی مہم کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں سابق بین الاقوامی فٹبالرز، شائقین اور عالمی شہرت یافتہ شخصیات نے اسرائیلی فٹبال ٹیم کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی سلسلے میں 16 ستمبر کو مہم #GameOverIsrael کا آغاز ہوا جس کا مقصد یہ ہے کہ انگلینڈ، فرانس، اٹلی اور اسپین جیسے وہ ممالک، جو فٹبال کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، اسرائیلی ٹیم کو معطل کریں۔
مہم کے تحت ان ممالک پر یہ بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اسرائیلی کلب ٹیموں کو براعظمی مقابلوں سے خارج کیا جائے اور اسرائیلی کھلاڑیوں کو ان کی مقامی لیگوں میں شامل ہونے سے روکا جائے۔
بیلجیم، یونان، آئرلینڈ، ناروے اور اسکاٹ لینڈ بھی ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں اس مقصد کے لیے دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔

