مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– بحیرہ روم میں امدادی مشن کے جہازوں پر بارہ حملوں کی اطلاع، منتظمین نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا
غزہ کے لیے روانہ سول امدادی مشن "عالمی سُمود فلوٹیلا” (Global Sumud Flotilla) نے بدھ کے روز بتایا کہ اس کے جہاز بحیرہ روم میں ڈرون ہراسانی، دھماکوں اور مواصلاتی رکاوٹوں کا نشانہ بنے۔
فلوٹیلا کے کوآرڈینیٹر وائل نوّار کے مطابق چار جہازوں کو صوتی بموں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں تنظیم نے اعلان کیا کہ مجموعی طور پر 12 حملے ریکارڈ ہوئے جن میں نو جہاز متاثر ہوئے۔
منتظمین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دھماکے، نامعلوم ڈرون اور مواصلاتی رکاوٹیں… ہم ان نفسیاتی حربوں کا براہِ راست سامنا کر رہے ہیں لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ یہ تمام حربے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے انسانی ہمدردی کی امداد کو غزہ تک پہنچنے سے روکنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
منتظمین نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی جس حد تک جا رہے ہیں تاکہ غزہ میں بھوک اور نسل کُشی کے ہولناک حالات کو طول دے سکیں، وہ نہایت افسوسناک ہے۔ لیکن ہمارا عزم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈرونز نے متعدد جہازوں کے قریب نامعلوم اشیاء پھینکیں جبکہ کئی مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس دوران مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا جس سے یہ خدشہ بڑھا کہ یہ مربوط انداز میں مداخلت کی کارروائی ہے۔
تاہم ان واقعات کے باوجود، عالمی سُمود فلوٹیلا نے اپنے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تنظیم نے کہا کہ "یہ حربے ہمیں غزہ میں امداد پہنچانے اور غیر قانونی محاصرہ توڑنے کے مشن سے باز نہیں رکھ سکیں گے۔ ہر دھمکی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم خاموش نہیں ہوں گے۔ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
پس منظر
یہ تازہ ہراسانی اس سے قبل تیونس کے پانیوں میں فلوٹیلا جہازوں پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ بندرگاہ سیدی بوسعید میں ایک جہاز "فیملی بوٹ” دھماکے کے نتیجے میں آگ کا شکار ہوا تھا جبکہ ایک اور جہاز "الما” بھی الگ واقعے میں نشانہ بنا۔ اس وقت منتظمین نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا، تاہم تیونسی حکام نے حملوں کی تردید کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق یہ قافلہ اس وقت بحیرہ روم کے وسطی حصے میں موجود ہے اور اسپین، اٹلی اور تیونس کی بندرگاہوں سے روانگی کے بعد جہاز دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس مشن کا مقصد براہِ راست غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے کو چیلنج کرنا ہے، جو 2024 کے اواخر میں جنگ کے آغاز کے بعد مزید سخت ہو چکا ہے۔

