پیر, فروری 16, 2026
ہومنقطہ نظرٹرمپ اکنامک زون: مزاحمت کو کمزور کرنے اور امریکی-اسرائیلی مفادات کو آگے...

ٹرمپ اکنامک زون: مزاحمت کو کمزور کرنے اور امریکی-اسرائیلی مفادات کو آگے بڑھانے کی سازش
ٹ

جنوبی لبنان اس وقت قبضے کی ایک نئی شکل کا سامنا کر رہا ہے، جسے دنیا کی بڑی سرمایہ دار ریاستیں مربوط کر رہی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری اسکیموں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں تاکہ اسرائیلی حکومت کو عرب ملک پر استثنا اور کھلی چھوٹ مل سکے۔

جنوبی لبنان طویل عرصے سے مغربی ریاستوں اور ان کے علاقائی اتحادیوں کی بالادستی پسندانہ خواہشات کے نتیجے میں غیر ملکی مداخلت کا شکار رہا ہے۔

اسرائیل کے لاتعداد قتل عام، جارحانہ فوجی حملے، سیاسی مداخلت اور خفیہ چالوں نے لبنان کی تاریخ کو داغدار کیا ہے اور یہی پس منظر حزب اللہ جیسی لبنانی مزاحمتی جماعتوں کی جوازیت اور ضرورت کو فراہم کرتا ہے۔

مغربی بیانیے کے برعکس، مزاحمت بلاجواز نہیں بلکہ ایک فطری ردِعمل ہے ان وحشیانہ حالات کا جن میں ایک قوم کو محکوم بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے لبنان کی مزاحمت کو ختم کرنے کی سیاسی، فوجی اور اب معاشی کوششیں ناکام ہیں، کیونکہ مزاحمت انہی غیرضروری اور تباہ کن مداخلتوں کا رد ہے۔

وہ عدم استحکام پیدا کرنے والی حقیقتیں جنہوں نے لبنان میں حزب اللہ کے قیام کو جنم دیا تھا، آج پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ حزب اللہ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے اعلان اور نفاذ کے بعد لبنانی حکام نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے ہزاروں واقعات رپورٹ کیے ہیں جن میں بے شمار عام شہری جاں بحق ہوئے۔

جنگ بندی کے اعلان کے بعد جنوبی علاقے میں پانچ قابض فوجی چوکیوں کی تعمیر بھی عمل میں لائی گئی۔ اسرائیل کی کھلی خلاف ورزیوں اور بلا روک ٹوک جارحیت کے باوجود امریکہ حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے اور اسرائیل کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے نئے طریقے گھڑ رہا ہے۔

امریکہ کا منصوبہ ہے کہ جنوبی لبنان کے 27 دیہات میں نام نہاد ’’ٹرمپ اکنامک زون‘‘ قائم کیا جائے، جو بظاہر حزب اللہ کی سرحد کے قریب موجودگی کو محدود یا قابو کرنے کی کوشش ہے، اور اس کے لیے اسرائیل کے نام نہاد ’’سیکورٹی خدشات‘‘ کو جواز بنایا گیا ہے۔

ویب سائٹ دی کرَیڈل نے حال ہی میں رپورٹ کیا کہ یہ منصوبہ نقورہ سے مرجعیون ضلع تک کے قصبوں پر قبضے، مقامی آبادی کے جبری انخلا اور 1,500 سے 2,000 امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر مشتمل ہے۔

سعودی عرب اور قطر نے اس منصوبے کی توثیق کی ہے اور زون کے اندر علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے مالی سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

جب کسی غیر ملکی طاقت کی جانب سے خصوصی اقتصادی زونز مسلط کیے جاتے ہیں تو ان کا مقصد ٹیکس مراعات اور نرم معاشی ضوابط کے ذریعے غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہوتا ہے۔ واشنگٹن کے زیرِ انتظام زون کے اندر جن اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ان میں شمسی توانائی، بجلی اور ٹیکنالوجی ہب کے قیام کے علاوہ زیرِ زمین گیس کے ذخائر کی ترقی شامل ہے۔

’’ترقی‘‘ کے پردے میں یہ کھلی معاشی سامراجیت اور درپردہ فوجی قبضہ لبنانی معیشت کو مضبوط کرنے اور جنوبی علاقے میں استحکام یقینی بنانے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ حقیقت میں یہ نیولبرل منصوبہ امریکی اور عرب سرمایہ کاروں کے سرمائے کو بڑھانے کے ساتھ زمین اور عوام کے وسائل کے استحصال پر مبنی ہے، جبکہ لبنان کی معاشی کمزوری کو سیاسی دباؤ کے لیے ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔

اس کے نتیجے میں ساختی انحصار پیدا ہوگا، جو لبنان کے معاشی مستقبل کو امریکی اور بالآخر اسرائیلی مطالبات کی پیروی کے ساتھ جکڑ دے گا۔

امریکی منصوبے کے تحت حزب اللہ کے جنوبی لبنان میں پورے نیٹ ورک کو ختم کرنا مقصود ہے، جو محض فوجی طاقت پر نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچے پر بھی مشتمل ہے۔ یوں اسرائیل کی جنوبی علاقوں پر قبضے کی سازش کو مؤثر طور پر قابلِ عمل بنایا جا سکے گا۔

اس سال مارچ میں امریکی تھنک ٹینک دی واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی نے لبنان کے لیے اسی نوعیت کے منصوبے پیش کیے تھے، جس کا مقصد حزب اللہ کے بغیر اور امریکی نگرانی میں ایک نئے لبنان کا تصور تھا۔

حنین غدار اور زوہر پلٹی نے ایک پالیسی تجزیہ تحریر کیا جس کا عنوان تھا: ’’ٹرمپ کو لبنان میں ایک ’ریویرا‘ کا ہدف رکھنا چاہیے۔‘‘ اس میں یہ خاکہ پیش کیا گیا کہ واشنگٹن، یورپ اور خلیجی ریاستیں کس طرح حزب اللہ کو کمزور کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کر سکتی ہیں۔

سات نکات پر مشتمل اس تجزیے میں جن سفارشات کا تعلق موجودہ تجویز سے زیادہ ہے، ان میں سعودی عرب، قطر اور دیگر ڈونرز کے ساتھ مالی امداد کو ہم آہنگ کرنا شامل ہے تاکہ معاشی اصلاحات پر عمل درآمد—اس صورت میں ٹرمپ اکنامک زون—کسی بھی تعمیرِ نو کی امداد کی شرط قرار پائے۔ اور جب تعمیرِ نو کے عمل کی منظوری دی جائے تو سخت نگرانی کی جائے تاکہ حزب اللہ اور اس کے مقامی شراکت دار اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

موجودہ تجویز اسی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ تعمیرِ نو کے اقدامات کو صرف امریکی زیرِ انتظام معاشی زون تک محدود کیا گیا ہے۔

ٹرمپ اکنامک زون کے قیام سے جنوبی لبنان پر قبضے کا بوجھ اسرائیل سے امریکہ پر منتقل ہوگا، جو ’’امن قائم کرنے‘‘ کے نام پر ہوگا، اور بعد ازاں اسے اسرائیلی حکومت کو منتقل کر دیا جائے گا تاکہ وہ واشنگٹن کی حمایت کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق اقدامات کر سکے۔

امریکی حکام کے بیانیے میں تضاد یہ ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایسے منصوبے لبنانی ریاست اور اس کے اداروں کو مضبوط بنائیں گے اور نام نہاد ’’نان اسٹیٹ ایکٹرز‘‘ پر قابو پائیں گے، لیکن اسی وقت لبنان کی معیشت اور داخلی سیاست کو امریکی اہلکاروں، ڈھانچے اور وسائل کے ساتھ مشروط کر دیتے ہیں، گویا امریکہ خود کوئی بیرونی فریق نہ ہو۔

ٹرمپ اکنامک زون اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل، جو مغربی ایشیا میں اس کا آلہ کار ہے، کس عجلت کے ساتھ لبنان کی مزاحمتی تحریک کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں، جب کہ وہ جنگوں اور قتل عام کے ذریعے اس مقصد میں ناکام رہے ہیں۔

ترقی کی لفاظی میں قبضے کو چھپا کر واشنگٹن اور تل ابیب اپنے اس ایجنڈے کو آشکار کر رہے ہیں کہ حزب اللہ کو معاشی دباؤ کے ذریعے غیر مسلح کیا جائے اور بالآخر لبنان کی خودمختاری کو منہدم کر دیا جائے۔

اسابیلا طارحنی آسٹریلیا میں مقیم مصنفہ اور محقق ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین