تہران (مشرق نامہ) – رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات ایران کے قومی مفاد کے منافی ہیں اور ایسے مذاکرات میں شامل ہونا ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
یہ بیان ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا جن میں بعض تجزیہ کاروں اور ذیلی سطح کے حکام نے امریکہ کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر دوبارہ بات چیت کی تجویز دی تھی۔ تاہم آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ ایران کے خلاف پہلے ہی طے شدہ ہے۔
ان کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرے اور یورینیم کی افزودگی روک دے، اور یہ کسی طور مذاکرات نہیں بلکہ نتائج مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورینیم افزودگی ایران کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور اس کے زرعی، طبی، صنعتی اور توانائی کے شعبوں میں موجودہ و مستقبل کے وسیع تر استعمالات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی کے لیے بہت توانائی اور وسائل صرف کیے ہیں اور اب دنیا کے اُن دس ممالک میں شامل ہے جو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
رہبر انقلاب نے زور دیا کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی باوقار قوم کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دھمکیوں کے دوران مذاکرات کیے جائیں تو دشمن یہ سمجھے گا کہ ایران کو دھمکا کر کسی بھی فیصلے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاملے پر گفت و شنید محض ایک بند گلی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ امریکہ اور مغربی طاقتیں جھوٹ اور فریب کاری کی روایت رکھتی ہیں، اور اگر کوئی معاہدہ طے بھی پا جائے تو مغرب اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔ انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے معاہدے سے نکلنے اور یورپی اتحادیوں کے وعدے توڑنے کے بعد ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ایران نے بائیڈن دور میں بھی یورپی ممالک کے ساتھ کئی دور کے مذاکرات کیے لیکن جیسے ہی معاہدے کے قریب پہنچا، واشنگٹن نے پسپائی اختیار کی۔ اس کے ساتھ ہی 2022 میں ایران میں پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔
مزید برآں، موجودہ سال ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی بالواسطہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی، لیکن جون میں چھٹے دور کے آغاز سے قبل ایران کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیل اور پھر امریکہ نے حملے کیے، جس کے نتیجے میں بارہ روزہ جنگ کے دوران ایک ہزار سے زائد ایرانی جاں بحق ہوئے۔
اس حوالے سے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ نہ دھمکیاں اور نہ ہی بمباری ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کو ختم کر سکتی ہیں، کیونکہ آج ملک میں درجنوں ممتاز اساتذہ و سائنسدان، سینکڑوں محققین اور ہزاروں ماہرین اس پروگرام پر سرگرم ہیں اور ان کی خدمات کو روکنا ممکن نہیں۔

