پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیاٹلی بھر میں غزہ کیلیے بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہڑتالیں

اٹلی بھر میں غزہ کیلیے بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہڑتالیں
ا

روم (مشرق نامہ) – سوموار کو اٹلی کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے فلسطین کے حق میں احتجاجات اور ہڑتالوں میں شرکت کی، جب کہ کیتھولک رہنماؤں نے غزہ میں امن کے لیے دعائیہ اجتماع منعقد کیا۔

یہ مظاہرے اور ہڑتالیں اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کے خلاف "یومِ احتجاج” کے حصے کے طور پر منعقد ہوئیں۔ اس دوران ملک بھر میں سڑکوں پر مارچ، ہڑتالیں اور راستوں کی ناکہ بندی کی گئی۔

میلان میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ بعض مظاہرین نے پولیس پر اشیاء پھینکیں۔

اسی دوران کارڈینل گوالتیئرو باسیٹی نے روم کے چرچ سانتا ماریا ان تراستیویرے میں امن کے لیے ایک دعائیہ اجتماع کی قیادت کی، جس کا اہتمام کمیونٹی آف سانت ایجیڈیو اور دیگر کیتھولک تنظیموں نے کیا تھا۔

تورین، فلورنس، نیپلز، باری اور پالرمو میں جلسے جلوس منعقد ہوئے، جبکہ جینوا اور لیورنو میں بندرگاہوں کو مزدوروں نے بلاک کر دیا۔ بولونیا میں مظاہرین نے ایک ہائی وے بند کی، جسے پولیس نے پانی کی توپوں کے ذریعے کھول دیا۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوئے جب فرانس اور دیگر ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس سے ایک روز قبل برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا فلسطین کو تسلیم کر چکے تھے۔

اٹلی کی دائیں بازو کی حکومت فی الحال فلسطین کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے اور یورپی یونین کی طرف سے تجویز کردہ تجارتی پابندیوں کو بھی قبول کرنے سے ہچکچا رہی ہے، اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے اکتوبر 2023 سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی ہے۔

"اونلی نمبرز انسٹیٹیوٹ” کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 40.6 فیصد اطالوی عوام فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حامی ہیں۔

روم میں ترمینی اسٹیشن کے سامنے 20 ہزار سے زائد افراد، جن میں بڑی تعداد ہائی اسکول کے طلبہ کی تھی، جمع ہوئے۔ انہوں نے فلسطینی پرچم لہرائے اور "فری فلسطین” کے نعرے بلند کیے۔

یونینے سنداکالے دی بیزے (USB) نے ایک 24 گھنٹے کی ملک گیر ہڑتال کا اہتمام کیا، جس میں اٹلی سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین