تهران (مشرق نامہ) – ایرانی فوج کے سینیئر کمانڈر نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس اکیلے جنگ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ امریکا اور نیٹو کی مدد کے بغیر کسی تصادم کا اہل نہیں۔ انہوں نے اس ممکنہ جنگ کو "عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد” قرار دیا۔
ایرانی فوج کے نائب سربراہ ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے یہ بات "ہفتہ دفاع مقدس” کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہی۔ یہ ہفتہ اس آٹھ سالہ جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے جو 1980 کی دہائی میں اُس وقت کے عراقی آمر صدام حسین نے ایران پر مسلط کی تھی۔
ایرانی کمانڈر نے کہا کہ جیسے 1980 کی دہائی میں عراق نے ایران پر جارحانہ جنگ مسلط کی اور جون میں امریکا و اسرائیل نے جارحیت کی، ان دونوں کا مقصد اسلامی انقلاب کو شکست دینا اور ملک کی ارضی سالمیت کو نشانہ بنانا تھا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل امریکا اور نیٹو کے بغیر جنگ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق 12 روزہ جنگ میں ایران نے صیہونی حکومت کو "بھاری نقصان” پہنچایا، جنہیں دنیا سے چھپا لیا گیا، اور بالآخر وہ "کچلی” گئی جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے فرمایا۔
13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف بلاجواز جارحیت کا آغاز کیا، جس نے 12 روز تک جاری رہ کر کم از کم 1,064 ایرانی شہادتوں کا باعث بنا، جن میں فوجی کمانڈر، جوہری سائنسدان اور عام شہری شامل تھے۔
امریکا نے مزید جارحیت کرتے ہوئے ایران کی تین پرامن جوہری تنصیبات پر غیر قانونی بمباری کی۔ تاہم ایران نے کامیاب جوابی کارروائیوں کے ذریعے 24 جون تک اس دہشت گرد حملے کو مؤثر طور پر روک دیا۔
ایڈمرل سیاری نے کہا کہ دونوں جنگوں میں دشمن نے پراکسی فورسز استعمال کیں، ایک بار صدام کو اور آج صیہونی حکومت کو۔ ان کے بقول٬ اس وقت مشرق و مغرب صدام کے ساتھ کھڑے تھے اور آج نیٹو اور عالمی استکبار [اسرائیلی وزیر اعظم] نیتن یاہو کے ساتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مماثلتیں ظاہر کرتی ہیں کہ آج بھی عالمی استکبار ہمارے سامنے ہے۔ "ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ اگر ہم لڑیں تو استکبار کے خلاف لڑتے ہیں، نہ کہ کسی چھوٹے دشمن کے خلاف۔”
اپنی گفتگو میں ایڈمرل سیاری نے یہ بھی کہا کہ عراق کی جنگ کے خاتمے کے بعد دشمن نے "کڑی پابندیوں، نرم جنگ، ادراکی جنگ، ثقافتی جال بچھانے اور ثقافتی یلغار” کا سہارا لیا۔
انہوں نے کہا کہ ان سب کا مقصد "قوم اور مسلح افواج کو کمزور کرنا” تھا، مگر ہماری قوم نے استکبار کے خلاف ڈٹ کر مزاحمت کی اور فتح حاصل کی، بالکل اسی طرح جیسے دفاع مقدس کے دور میں۔

