اقوام متحدہ، 24(مشرق نامہ) ستمبر (اے پی پی) :پاکستان نے زور دیا ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مخلص اور بامعنی مکالمے کی ضرورت ہے جو تمام فریقین کے سکیورٹی خدشات کو حل کرے تاکہ خطے میں امن کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین پر اعلیٰ سطحی مباحثے میں کہا:ہماری اجتماعی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہتھیار خاموش کیے جائیں اور مذاکراتی تصفیے کے لیے حالات پیدا کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
ہر چلائی جانے والی گولی، ہر داغا جانے والا راکٹ یا ڈرون، ہر ضائع ہونے والی جان ہمیں امن سے مزید دور لے جاتی ہے۔
فاطمی نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی انسانی قوانین پر سختی سے عمل کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے بامعنی اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے دنیا کو پولرائز کیا ہے، جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو بڑھایا ہے، سپلائی چینز متاثر ہوئی ہیں، خوراک اور توانائی کا بحران بڑھا ہے اور عالمی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس کے اثرات کا زیادہ بوجھ ترقی پذیر ممالک نے برداشت کیا ہے۔
انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست مذاکرات اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر کی ثالثی کی کوششوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے جنگ کے جلد خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
فاطمی نے کہا کہ پاکستان تمام علاقائی اور عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو اس تنازع کے پرامن حل کی راہ ہموار کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ عالمی برادری اس جنگ کے خاتمے کے لیے جاری نازک سفارتی کوششوں کو ضائع کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور پناہ گاہوں پر بمباری جاری ہے، جبکہ اہم شہری انفراسٹرکچر تباہ کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ چند ماہ میں 14 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک اور 36 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
گوتریس نے کہا: "عام شہریوں اور سول تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع ہیں۔ انہیں اب بند ہونا چاہیے۔”
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ اپنا اثر کھو رہا ہے اور حقیقی سکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امریکہ، چین، برطانیہ اور فرانس پر زور دیا کہ وہ مشترکہ طور پر عمل کریں اور روس کو امن کی طرف مجبور کریں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ جنگ ختم ہونی چاہیے، ورنہ یہ مزید کئی برسوں تک جاری رہ کر بڑے پیمانے پر تباہی اور جان و مال کا نقصان کرے گی۔
روسی مندوب دمتری پولیانسکی نے اجلاس کو "منافقت کی ایک اور شرمناک مثال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس مذاکرات ترک نہیں کر رہا اور ایک "حقیقی، دیرپا امن” کے لیے تیار ہے۔

