پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان کا سلامتی کونسل سے غزہ میں فوری اقدام کا مطالبہ

پاکستان کا سلامتی کونسل سے غزہ میں فوری اقدام کا مطالبہ
پ

اقوام متحدہ،(مشرق نامہ) 24 ستمبر (اے پی پی): فلسطینی عوام کی تاریخی پیمانے کی اذیت کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ انسانی وقار کے تحفظ، احتساب کو یقینی بنانے اور انصاف فراہم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے، اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے دو ریاستی حل پر زور دیا۔

ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خاص طور پر محصور غزہ پر بات کرتے ہوئے 15 رکنی کونسل کو بتایا:الفاظ کا وقت گزر چکا ہے؛ اب عمل کا وقت ہے۔

یہ اجلاس اس اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کے بعد منعقد ہوا جس میں 22 ستمبر کو فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے کے نفاذ پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور فلسطینی ریاست کے حقِ خودارادیت اور خودمختاری کے لیے عالمی سطح پر مزید حمایت کو متحرک کیا گیا۔

ڈپٹی وزیراعظم/وزیر خارجہ نے متعدد ممالک کی جانب سے فلسطین کو حالیہ تسلیم کیے جانے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے 1988 میں آزادی کے اعلان کے فوراً بعد فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل ہو کر فلسطینی کاز کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا:اس مثبت رفتار کو پختہ عزم، مقصد کے سنجیدہ تعاقب، اور ایک منصفانہ و دیرپا حل کے حصول کے لیے غیر متزلزل کمٹمنٹ کے ساتھ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ فلسطینی عوام ایک تاریخی پیمانے کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی اذیت ہماری اجتماعی ضمیر پر بدنما داغ ہے‘۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ انسانیت اور عالمی ضمیر کا قبرستان بن گیا ہے۔ انہوں نے ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے فلسطینی عوام کی عزت، انصاف اور حقِ خودارادیت کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ یہ ریاست 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

اس سلسلے میں انہوں نے مطالبہ کیا:

  • فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی،
  • غزہ تک انسانی ہمدردی کی رکاوٹوں سے آزاد رسائی اور محاصرہ فوری ختم کیا جائے تاکہ ضرورت مندوں کو زندگی بچانے والی امداد پہنچ سکے،
  • فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین سے جبری بے دخلی کا خاتمہ،
  • مہاجرین کے حقِ واپسی کی پاسداری،
  • اور ایک بین الاقوامی سکیورٹی/تحفظاتی میکنزم کا قیام۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا:’ہم اسرائیل-فلسطین تنازع کے سب سے تاریک ابواب میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ تقریباً دو سال بعد بھی اسرائیلی جنگ کے اثرات مزید شدت اختیار کر چکے ہیں اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد بڑھ گیا ہے۔ غزہ سٹی پر حملوں نے تباہ کن انسانی بحران کو اور گہرا کر دیا ہے جہاں شہری اور یرغمالی ’’مسلسل بمباری تلے دبے ہیں اور انہیں خوراک، پانی، بجلی اور ادویات سے محروم رکھا گیا ہے‘‘۔

انہوں نے خبردار کیا:قحط ایک حقیقت ہے، لوگ مسلسل بے گھر اور بھوک سے نڈھال ہیں۔ اس صورتحال کو ناقابلِ برداشت اور اخلاقی و قانونی طور پر ناقابلِ جواز قرار دینا بھی انسانی اذیت کے پیمانے کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ جنگ بندی، یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی اور امداد تک آزاد رسائی کے لیے بار بار اپیلوں کے باوجود سلامتی کونسل کی قراردادیں مسلسل نظرانداز ہو رہی ہیں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے پھیلتا ہوا تشدد مقبوضہ مغربی کنارے اور خطے کے دیگر ممالک تک پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے 9 ستمبر کو قطر پر اسرائیلی حملے کو قطر کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، جس نے قطر، مصر اور امریکا کی جنگ بندی و یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو کمزور کیا۔

انتونیو گوتریس نے دو ریاستی حل کے حوالے سے خبردار کیا کہ اس کی ’’عملی حیثیت مسلسل ختم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ:

  • اسرائیلی بستیوں کی بلا روک ٹوک توسیع،
  • درپردہ الحاق،
  • جبری بے دخلی،
  • اور ہلاکت خیز تشدد کے چکر، بشمول شدت پسند آبادکاروں کے حملے، جاری ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ای-ون (E1) علاقے میں بستیوں کی تعمیر کی حالیہ منظوری انتہائی تشویش ناک‘ ہے اور زور دیا کہ:
’’اسرائیلی بستیاں محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں‘‘۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین