پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان نے فلسطین کے لیے حمایت کی دوبارہ یقین دہانی کرائی

پاکستان نے فلسطین کے لیے حمایت کی دوبارہ یقین دہانی کرائی
پ

اقوام متحدہ(مشرق نامہ):
پاکستان نے منگل کے روز فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی تاریخی یکجہتی کو دہراتے ہوئے اس بات کی توثیق کی کہ وہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، مستحکم اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، جیسا کہ متعلقہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں میں درج ہے۔

ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے کے نفاذ سے متعلق اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس کانفرنس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس نے کی۔

یہ کانفرنس اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتی تھی کہ کئی ممالک، جن میں فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور پرتگال شامل ہیں، نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جس نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام پر عالمی اتفاق رائے کو مزید مضبوط کیا۔

ڈپٹی وزیراعظم نے ان اعلانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ جو ممالک ابھی تک فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے، وہ بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ قدم اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور 1988 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔

پاکستان نے کانفرنس کے اعلامیے، "نیو یارک ڈیکلریشن”، کی بھی توثیق کی اور ایک منصفانہ و پائیدار امن کے لیے اپنے عزم کو دہرایا۔ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ اس اعلامیے پر عملدرآمد کے لیے عملی عالمی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ دہائیوں پر محیط تنازع کا خاتمہ ہو اور مشرق وسطیٰ میں استحکام آ سکے۔

علاوہ ازیں، پاکستان نے دولتِ مشترکہ (Commonwealth) کے کردار کو عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور اجتماعی خوشحالی کے فروغ کے لیے مزید مضبوط کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

ڈپٹی وزیراعظم نے دولتِ مشترکہ وزرائے خارجہ اجلاس (CFAMM) سے خطاب کیا۔ انہوں نے سیکریٹری جنرل کو اپریل 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار اجلاس میں خوش آمدید کہا اور تنظیم کو متحرک کرنے کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے فورم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکالمے، امن قائم رکھنے اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم پلیٹ فارم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا کو تنازعات، ماحولیاتی تبدیلی، معاشی کمزوریاں اور نئی ٹیکنالوجیز جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اسی دوران، ڈار نے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ امن اور رواداری کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے مسلم اُمہ کو درپیش معاصر چیلنجز، خصوصاً فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کی طرف توجہ دلائی۔

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی سے بھی ملاقات کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین