پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیاقوام متحدہ اجلاس، مظاہرین کا احتجاج: انصاف ان دیواروں کے اندر نہیں

اقوام متحدہ اجلاس، مظاہرین کا احتجاج: انصاف ان دیواروں کے اندر نہیں
ا

نیویارک (مشرق نامہ) – اقوام متحدہ کے رکن ممالک اگرچہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں تاریخی پیش رفت کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے اقدامات محض علامتی ہیں اور فلسطین کے حق میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

فرانس اور سعودی عرب کی شراکت سے منعقدہ ایک کانفرنس میں 30 سے زائد رکن ممالک نے دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔

حالیہ دنوں میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ اتوار کی شام تک برطانیہ، کینیڈا، پرتگال، مالٹا، موناکو اور لکسمبرگ نے باضابطہ طور پر فلسطین کو تسلیم کرلیا۔ مزید تین یورپی ممالک بیلجیم، ڈنمارک اور نیدرلینڈز نے کچھ شرائط پوری ہونے پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکرون نے کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں باضابطہ طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم فلسطینی ریاست کے معاملے پر آراء مختلف ہیں۔

جب عالمی رہنما مین ہیٹن میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں فلسطینی ریاست کے حوالے سے سربراہی اجلاس کے لیے جمع ہوئے تو باہر فلسطین نواز مظاہرین نے کہا کہ اگرچہ یہ تسلیم شدگی کاغذ پر اچھی لگتی ہے، مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے نزدیک فلسطین ہمیشہ سے ایک ریاست رہا ہے۔

نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ایک مظاہر نے کہا کہ ان کے نزدیک فلسطین پہلے ہی ریاست تھا، یہ سب محض علامتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل ضرورت فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی ہے، چاہے اس کے لیے افواج کو میدان میں اتارنا پڑے۔

سوڈانی نژاد مظاہرین میں شامل مازن نے کہا کہ ان کے لیے اقوام متحدہ کبھی انصاف حاصل کرنے کی جگہ نہیں رہا۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ نے دہائیوں تک افریقی مسائل کو نظرانداز کیا ہے اور سلامتی کونسل میں کوئی افریقی رکن بھی موجود نہیں۔

‘سیاسی احسان نہیں’

برطانیہ کے اعلان کے بعد لندن میں متعین فلسطینی سفیر حسام زملط نے کہا کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ دراصل تاریخی ناانصافیوں کو درست کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بالفر اعلامیے کے اسی دارالحکومت میں ایک صدی سے زائد عرصے کی انکار اور محرومی کے بعد برطانوی حکومت نے بالآخر فلسطین کو تسلیم کرنے کا طویل التوا کا شکار قدم اٹھایا ہے۔

اگرچہ بعض حلقوں نے اس تسلیم شدگی کو خوش آئند قرار دیا لیکن اسے ناکافی اور تاخیر سے کیا گیا عمل بھی کہا گیا۔

گزشتہ ہفتے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے پر ایک پینل ڈسکشن کے دوران آکسفام کی پالیسی لیڈ بشریٰ خالدی نے کہا کہ محض تسلیم کرنا احتساب کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق اگر فلسطین کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات جیسے کہ بستیوں کی توسیع روکنے، اسلحہ کی ترسیل بند کرنے اور قبضے کو ختم کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو اس تسلیم شدگی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک ہاتھ سے مرہم دیا جائے اور دوسرے ہاتھ سے وہی ہتھیار اور سرمایہ فراہم کیا جائے جو زخم لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تسلیم کرنا کوئی سیاسی احسان نہیں بلکہ ایک ناقابل تنسیخ حق ہے۔ یہ حق فلسطینیوں کو دیا جانا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی دباؤ کے وقت بطور ہتھیار استعمال کیا جائے۔

اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر کے باہر موجود مازن نے مزید کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ برطانیہ یا فرانس جیسے ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات ختم کر دیں گے۔

ایک اور مظاہرہ کرنے والی ردھیما نے کہا کہ یہ لمحہ دراصل مغربی ممالک پر عوامی دباؤ کا نتیجہ ہے، لیکن یہ اقدام زیادہ تر عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ہے نہ کہ فلسطینی خودارادیت کے حق میں حقیقی وکالت کے طور پر۔

ردھیما کے مطابق اصل تبدیلی سڑکوں سے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ عوامی تحریک کے دباؤ کا نتیجہ ہے جس نے سامراجی رہنماؤں کو سمجھوتے پر مجبور کیا۔ اگرچہ فلسطینی ریاست کا تسلیم کیا جانا مسئلے کا حل نہیں، لیکن یہ کم از کم اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت اصل میں عوام کے پاس ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین