اوٹاوا (مشرق نامہ) – فلسطینی نژاد کینیڈین شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں محصور ان کے اہل خانہ کے انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات کرے اور غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرے، ورنہ یہ پالیسی ’’بیوروکریٹک نسل کشی‘‘ کے مترادف ہوگی۔
غزہ سے خصوصی ویزوں پر پانچ ہزار فلسطینیوں کو لانے کا اعلان جنوری 2024 میں کیا گیا تھا، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود اب تک صرف 886 افراد ہی کینیڈا پہنچ سکے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ جینی کوان کے مطابق حکومت نے طریقہ کار کو غیرضروری حد تک پیچیدہ بنا دیا ہے اور بار بار کہانیاں بدل کر تاخیر پیدا کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول بایومیٹرکس کی شرط ایسی ہے جس کا غزہ میں پورا ہونا ممکن ہی نہیں۔
اوٹاوا میں پریس بریفنگ کے دوران فلسطینی نژاد شہری عمر، جنہوں نے اپنی فیملی کے انخلا پر ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر خرچ کیے، نے بتایا کہ اس رقم کا بیشتر حصہ مصر میں نجی کمپنیوں کو رشوت کے طور پر دینا پڑا۔ ان کے والد اور بھائی اب بھی غزہ میں ایک خیمے میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ کینسر کی مریضہ بہن اور والدہ مصر میں پھنسی ہوئی ہیں۔ عمر نے کہا کہ ہم تھک چکے ہیں، لیکن اپنی فیملی کو بچانے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
کینیڈین پارلیمنٹ میں بائیں بازو کی جماعت این ڈی پی سے تعلق رکھنے والی جینی کوان نے کہا کہ جس طرح 2022 میں یوکرین کے لیے ایمرجنسی پروگرام کے تحت بایومیٹرکس کی شرط معاف کی گئی تھی، اسی طرح فلسطینی خاندانوں کے لیے بھی فوری متبادل نکالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر فلسطینی کو دہشت گرد سمجھنے کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔
یہودی مخالف نسل کشی کے خلاف قائم اتحاد Jews Say No to Genocide کے رکن گر تسوبر نے بتایا کہ 1,287 فلسطینی وہ تمام تقاضے پورے کر چکے ہیں مگر سکیورٹی جانچ کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ مزید چھ سو اب بھی اہلیت کی جانچ کے مرحلے میں ہیں۔ مصر میں پھنسی ڈھائی ہزار سے زائد درخواستیں بھی تعطل کا شکار ہیں۔ تسوبر نے کہا کہ ریڈ کراس یا کسی تیسرے ملک کے ذریعے بایومیٹرکس کی تجاویز کینیڈا نے مسترد کر دیں اور خاندان ایک ’’انتظامی قید‘‘ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم مارک کارنی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ میں بیوروکریٹک نسل کشی کے ماسٹر کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
انسانی حقوق کے وکلا کے ایک گروپ نے کینیڈین فیڈرل کورٹ میں 53 فلسطینی خاندانوں کی جانب سے مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کے مطابق آدھے درخواست گزار بچے ہیں، جن میں سب سے چھوٹا سات ماہ کا ہے۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان خاندانوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں، وہ بار بار فضائی حملوں اور بھوک کا شکار ہیں، جبکہ علاج معالجے کی سہولت بھی میسر نہیں۔
عمر نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کو اس قدر ’’انسانیت سے محروم‘‘ کر دیا گیا ہے کہ انہیں عام مہاجرین کے طور پر بھی نہیں دیکھا جاتا۔ ان کے بقول٬ یہ نسل پرستی ہے، اسلاموفوبیا ہے، اینٹی فلسطینی تعصب ہے، اور بنیادی طور پر یہ نفرت ہے۔ کینیڈا ہمیشہ سے مقامی برادریوں کے ساتھ امتیاز برتتا رہا ہے، اور ہمارے لیے، بطور فلسطینی، یہ وہی نوآبادیاتی نفرت ہے۔

