پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیایران و آذربائیجان تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام ہوں گی:...

ایران و آذربائیجان تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام ہوں گی: صدر پزشکیان
ا

تہران (مشرق نامہ) – ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اُن تمام اقدامات کو مسترد کر دیا ہے جو مسلم ممالک، خصوصاً ایران اور آذربائیجان کے درمیان اختلاف اور انتشار پھیلانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے پیر کے روز تہران میں آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیف سے ملاقات کے دوران کہی۔

صدر نے اس موقع پر اُن جاری معاندانہ سرگرمیوں کی جانب اشارہ کیا جو خطے میں تعمیری تعلقات کے قیام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کی قیادت کے عزم اور ارادے کے پیشِ نظر ایسے عناصر کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ، اتحاد اور اخوت کے استحکام کو ترجیح دیتی آئی ہے۔

صدر پزشکیان نے ایران و آذربائیجان تعلقات کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے انہیں برادرانہ قرار دیا، جو گہری ثقافتی اور مذہبی اشتراک پر مبنی اور ناقابلِ تقسیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران چاہتا ہے یہ تعلقات سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی ہر سطح پر فروغ پائیں اور دوطرفہ تعاون کی راہ میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

ملاقات میں آذربائیجانی نائب وزیراعظم نے صدر الہام علییف کی جانب سے گرم جوشی کے ساتھ سلام پہنچایا اور کہا کہ آذری صدر ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔

شاہین مصطفیف نے اپریل میں صدر پزشکیان کے دورۂ باکو کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک "نیا باب” قرار دیا اور اس موقع پر طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ باکو ان یادداشتوں کو سنجیدگی اور عزم کے ساتھ نافذ کر رہا ہے جو اس دورے کے دوران دستخط ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ صدر پزشکیان اپریل میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ آذربائیجان گئے تھے۔ اس دورے میں مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا اور سیاسی مشاورت، ٹرانسپورٹ، ثقافتی تبادلے، صحت کے شعبے میں تعاون، میڈیا اور سرمایہ کاری سے متعلق متعدد یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

اگست میں آذربائیجان اور ہمسایہ ملک آرمینیا نے امریکا کی ثالثی میں ایک "امن معاہدہ” کیا جس پر امریکی مداخلت کے خدشات کا اظہار کیا گیا۔ تاہم باکو اور یریوان دونوں نے تہران کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اسلامی جمہوریہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کسی تیسرے فریق کے منفی اثرات سے محفوظ رکھیں گے۔

اس دوران آذری نائب وزیراعظم نے ان میڈیا افواہوں کی سختی سے تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ باکو نے ایران پر جون میں ہونے والی بلاجواز جنگ کے دوران اسرائیلی اور امریکی تعاون فراہم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان ہمیشہ اچھے ہمسائیگی کے اصول اور اپنے پڑوسیوں کی ارضی سالمیت کے احترام پر کاربند رہا ہے اور نہ کبھی اجازت دی ہے اور نہ دے گا کہ اس کی سرزمین یا فضائی حدود کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی دعویٰ یا افواہ بے بنیاد ہے اور اسے قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین