تہران (مشرق نامہ) – ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے یہودی شہریوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے والے تمام پیروکاروں کو یہودی نئے سال کی مبارکباد دی ہے، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو یہودیت اور تمام یہودیوں کی شبیہ کو مسخ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پیر کے روز نئے سال کے موقع پر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پیغام دیتے ہوئے عراقچی نے نیتن یاہو پر کڑی نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی "فتح کے دعوؤں” کے باوجود اُس نے اسرائیلی حکومت کو "بربادی اور بے مثال تنہائی” سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ صہیونی حکومت کو خطے اور دنیا بھر میں کبھی اتنی نفرت اور مخالفت کا سامنا نہیں ہوا جتنا آج ہے۔
عراقچی نے نیتن یاہو کو فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم میں ملوث قرار دیا جو یہودیوں کے نام پر کی جا رہی ہے اور اس طرح اُس نے "انتہائی قابلِ نفرت انداز میں یہودیت اور تمام یہودیوں کی شبیہ کو داغدار کیا ہے۔”
ایرانی وزیر خارجہ نے اُن یہودیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سراہا جو کھل کر اس مذہب کے ناجائز استعمال کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہودیت کو "جنگی مجرموں” کے تسلط اور بدنامی سے بچایا جائے۔
انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ یہودی عوام کی اس جدوجہد کی حمایت کریں تاکہ نیتن یاہو کی اُس کوشش کو ناکام بنایا جا سکے جس کے ذریعے وہ "ایک خدائی مذہب کو نسل پرستی اور جبری بے دخلی پر مبنی ایک خونی نظریے” کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسرائیلی جرائم اور مغرب کی خاموشی پر عراقچی کی مذمت
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں ایران کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے عراقچی نے متعدد ملاقاتیں کیں اور تقاریر بھی کیں۔
یونان کی میزبانی میں نیویارک میں ہونے والے "قدیم تہذیبوں کے فورم” سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں دنیا نے صہیونی حکومت کی "خوفناک نسل کشی اور مسلسل جارحیت” کو فلسطینی عوام کے خلاف دیکھا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بعض بڑے ممالک کی خاموشی بہرا کرنے والی ہے، جو دراصل جرم میں شراکت اور ملی بھگت کے مترادف ہے۔
آسٹریا کی وزیر خارجہ بیئٹے مائنل رائسنگر سے ملاقات میں عراقچی نے تمام حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی و صہیونی جارحیت کی مذمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک اور سلامتی کونسل کے دیگر اراکین پر لازم ہے کہ وہ کونسل کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں اور اپنی ذمہ داریوں اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کے نتائج کو ذہن میں رکھیں۔
آسٹریا کی وزیر خارجہ نے عالمی مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ آسٹریا ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
عراقچی نے سوڈان کے وزیر خارجہ محی الدین سالم سے بھی ملاقات کی، جہاں دونوں وزرائے خارجہ نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر غزہ میں جاری نسل کشی اور صہیونی حکومت کی مسلم ممالک کے خلاف جنگی سازشوں کے مقابلے میں۔
اسی طرح عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی کے ساتھ گفتگو میں بھی فلسطین کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ غزہ کی نسل کشی کو روکا جائے اور اسرائیلی حکام کو بین الاقوامی عدالتوں میں جواب دہ بنایا جا سکے۔
جوہری معاملے پر ایران کے خیرسگالی رویے کو اجاگر کیا گیا
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی سے ملاقات میں عراقچی نے جوہری معاملے پر ایران کے "خیرسگالی اور ذمہ دارانہ رویے” کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مزید پیش رفت دیگر فریقین کی ذمہ داریوں کی ادائیگی، "غیر حقیقی مطالبات” کے خاتمے اور سلامتی کونسل کے ناجائز استعمال کو روکنے سے مشروط ہے۔
رافائل گروسی نے بھی ایران کے مثبت رویے اور خصوصاً "قاہرہ معاہدے” کی تعریف کی اور زور دیا کہ تمام فریقین سفارتی ذرائع بروئے کار لائیں تاکہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
9 ستمبر کو ایرانی وزیر خارجہ اور گروسی کے درمیان قاہرہ میں ملاقات کے دوران عملی طریقۂ کار پر اتفاق ہوا تھا تاکہ تعاون دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
یہ اس وقت سامنے آیا جب ایرانی پارلیمان نے متفقہ طور پر قانون سازی کی تھی جس کے تحت حکومت کو پابند کیا گیا کہ اسرائیل اور امریکا کی جارحیت کے بعد، جس میں ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، آئی اے ای اے کے ساتھ تمام تعاون معطل کر دیا جائے۔ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی کھلی خلاف ورزی قرار دی گئی تھی۔

