نیویارک(مشرق نامہ) –اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے سوال پر فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں منعقدہ اجلاس پر امریکا نے کھل کر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم جہاں واشنگٹن نے فرانس پر سخت تنقید کی، وہیں سعودی عرب کے کردار پر خاموشی اختیار کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں اور اعلیٰ حکام نے اس اجلاس کو "محض علامتی” اور "بے اثر” قرار دیا۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل-فلسطین تنازع پر کوئی اثر نہیں ڈالتا بلکہ حماس کو حوصلہ دیتا ہے۔ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکبی نے اجلاس کو "قابلِ نفرت” قرار دیا اور طنزیہ طور پر کہا کہ فرانس کو فلسطینی ریاست کے بدلے فرانسیسی ریویرا دینا چاہیے۔
لیکن امریکی حکومت نے سعودی عرب پر ایسی کوئی تنقید نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ سعودی عرب کا واشنگٹن پر مالی اور سکیورٹی تعلقات کے ذریعے گہرا اثر ہے۔ کویت یونیورسٹی کے ماہر بدر السیف نے کہا کہ امریکا اپنے قریبی عرب اتحادیوں کو فلسطین کے معاملے پر کبھی سختی سے نہیں ٹوکتا۔ ان کے بقول٬ خلیجی ممالک کے پاس امریکا پر اس سے زیادہ دباؤ ہے جتنا وہ سمجھتے ہیں، اور یہ وہی زبان ہے جسے ٹرمپ بخوبی سمجھتے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکرون نے اجلاس میں فلسطین کے حق میں مؤقف پر تالیوں کی گونج میں خطاب کیا۔ دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جنرل اسمبلی میں شریک نہیں ہوئے اور ان کی نمائندگی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کی۔
ٹرمپ کا پہلا بڑا غیر ملکی دورہ 2017 میں سعودی عرب تھا، جہاں ریاض نے امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا غیر پابند وعدہ کیا۔ اگرچہ بڑے دفاعی معاہدے اور کاروباری منصوبے مکمل طور پر سامنے نہیں آئے، لیکن سعودی عرب کی حیثیت امریکا کے لیے اب بھی مرکزی ہے۔
ماہرین کے مطابق واشنگٹن کی خاموشی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ سعودی حکومت اپنے عوامی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے جو اسرائیل کے غزہ میں مظالم پر سخت برہم ہیں۔ فرانس کے برعکس، سعودی عرب آزادانہ طور پر اپنے علاقائی اور سکیورٹی فیصلے کر رہا ہے، جن میں پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور چین کی مدد سے میزائل پروگرام شامل ہیں۔
مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے محقق گریگری گاس کے مطابق ٹرمپ یورپ، خاص طور پر جرمنی اور فرانس سے فطری طور پر ناپسندیدگی رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، خلیجی ممالک ٹرمپ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہیں۔
امریکی حکام اس ہفتے ترکی، مصر، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں سے غزہ پر ملاقاتیں متوقع ہیں، تاہم کئی ممالک کے سربراہان خود نیویارک میں موجود نہیں ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے لیے فرانس پر دباؤ ڈالنا آسان ہے کیونکہ وہاں خطرات کم ہیں، جبکہ سعودی عرب کے معاملے میں stakes کہیں زیادہ ہیں۔ "کوئی نیٹو سے فرانس کے نکلنے کی فکر نہیں کرتا، لیکن سعودی عرب کے پاکستان سے معاہدے اور چین کی بڑھتی شراکت داری امریکا کو پریشان کر رہی ہے، اسی لیے واشنگٹن ریاض کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کا خطرہ مول نہیں لے رہا۔”

