تہران (مشرق نامہ) – غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے اس دورے کی اہمیت پر زور دیا اور ایرانی وفد کو ہدایت دی کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ملک کے مؤقف کو بھرپور انداز میں پیش کرے۔ توقع ہے کہ صدر مسعود پزیشکیان ایک اہم خطاب کریں گے جس میں وہ اسلامی جمہوریہ کے خطے اور دنیا سے متعلق نقطۂ نظر کو واضح کریں گے، جبکہ غزہ میں جاری نسل کشی کو ان کی تقریر کا مرکزی موضوع قرار دیا جا رہا ہے۔
اس برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اپنی 80ویں سالگرہ کے علامتی عنوان کے تحت منعقد ہو رہی ہے، تاہم یہ اجلاس جشن کے بجائے ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کر رہا ہے کہ یہ ادارہ اپنے بانی مقاصد پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اقوام متحدہ اس وقت اپنی ساکھ کے بدترین بحران سے دوچار ہے، کیونکہ یہ ادارہ اسرائیلی حکومت کے امریکا کی پشت پناہی سے جاری قتل عام کو روکنے میں سراسر ناکام رہا ہے۔
بھرپور عالمی مذمت اور جنرل اسمبلی کی جانب سے بارہا فوری جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود سلامتی کونسل امریکا کے ہاتھوں مسلسل مفلوج ہے۔ واشنگٹن نے بار بار اپنے ویٹو کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کو کسی بھی قسم کے عملی نتائج سے بچایا ہے اور اس طرح فلسطینیوں کے مسلسل قتل عام کے لیے سبز جھنڈی دکھائی ہے۔
اکتوبر 2023 میں فلسطینی مزاحمتی کارروائی کے بعد اسرائیلی حکومت نے اپنی وحشیانہ جارحیت کا آغاز کیا۔ اس دوران امریکا نے نہ صرف اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کیا بلکہ اربوں ڈالر کی ہنگامی فوجی امداد بھی تل ابیب کو پہنچائی۔ مزید برآں، امریکا نے بین الاقوامی اداروں میں اسرائیل کو جواب دہ بنانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا، خصوصاً سلامتی کونسل میں، جہاں اس نے جنگ بندی کی متعدد قراردادوں کو تنہا ویٹو کیا۔
اسرائیل نے گزشتہ دو برسوں میں اندازاً 66 ہزار سے 6 لاکھ 80 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا ہے اور غزہ کے ہر ممکنہ شہری ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اس علاقے کو ناقابلِ رہائش بنانے کی کوشش کی ہے۔
امریکی حمایت نے اسرائیل کو اس قابل بنایا کہ وہ پورے مغربی ایشیا میں بلاخوف و خطر اپنی جارحیت کو بڑھا سکے۔ لبنان، شام، عراق، یمن اور ایران پر اسرائیلی حملے خطے کو بارہا بڑے پیمانے کے تصادم کے دہانے تک پہنچا چکے ہیں۔ آئندہ جنرل اسمبلی ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب کثیرالجہتی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کو وہی طاقتیں پامال کر رہی ہیں جو ان کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔
صدر پزیشکیان کا خطاب اس دوغلے رویے پر سخت تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں امریکا اور اس کے حلیف اسرائیل کو براہِ راست بین الاقوامی قانون کی تباہی اور غزہ میں جاری انسانی المیے کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔ توقع ہے کہ دیگر کئی ممالک بھی اپنے بیانات میں بنیادی اصلاحات اور بین الاقوامی اداروں پر امریکی تسلط کے خاتمے کا مطالبہ کریں گے۔

