منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانبلوچستان اپوزیشن نے معدنیات کا قانون ’غیر آئینی‘ قرار دے دیا

بلوچستان اپوزیشن نے معدنیات کا قانون ’غیر آئینی‘ قرار دے دیا
ب

کوئٹہ(مشرق نامہ): بلوچستان اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کو غیر آئینی، صوبائی خودمختاری اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبے کے مالکانہ حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیر کو بلوچستان اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 پر تفصیل سے غور کیا گیا اور جماعتوں کی رائے کی روشنی میں اس ایکٹ کو مسترد کر دیا گیا۔

یہ ایکٹ بلوچستان اسمبلی نے اس وقت منظور کیا تھا جب اسے قائمہ کمیٹی کی سفارش پر ایوان میں پیش کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کی، جس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مائنز اونرز ایسوسی ایشن کے قائدین نے شرکت کی۔

شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اپوزیشن جماعتیں عوامی مفادات کی امین ہیں اور وہ ہر اس اقدام کی مخالفت کریں گی جو عوامی مفاد کے خلاف ہو۔

مزید برآں، ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی قیادت میر یونس عزیز زہری کریں گے۔ کمیٹی میں اے این پی کے رہنما زمرک خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے رہنما رحمت صالح بلوچ، جماعت اسلامی کے مولانا ہدایت الرحمان اور بی این پی کے میر جہانزیب مینگل شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ مطالبات وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین