مصنف: کرس ڈوئل
اگر کیئر اسٹارمر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فلسطین کے معاملے پر اپنے لیے کچھ مہلت خرید لی ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ اصل کام صرف نسل کشی کے خاتمے اور اسرائیل پر مؤثر پابندیوں سے ہی ہوگا۔
2014 میں برطانوی ایوانِ زیریں نے ایک غیر پابند قرارداد کے ذریعے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
گزشتہ ویک اینڈ پر جب وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے ایک دہائی بعد باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تو یہ سوال اٹھا کہ اگر یہ اعلان اُس وقت کیا جاتا تو کیا نتائج برآمد ہوتے؟
اس وقت دنیا بھر میں فلسطینی جشن مناتے، ریلیاں اور تقریبات ہوتیں۔ امید اور خوشی کا ماحول غالب ہوتا۔
تو پھر آج ایسا کیوں نہیں ہے؟ خوشی اور مسرت کے نعرے کہاں ہیں؟ یہ اعلان اسرائیل اور بنیامین نیتن یاہو کو زیادہ پریشان کیوں نہیں کرے گا باوجود اس کے کہ وہ بظاہر بیانات جاری کر رہے ہیں؟
المناک حقیقت یہ ہے کہ یہ تسلیم کرنا ایک جاری نسل کشی کے ساتھ آ رہا ہے۔
جب برطانیہ بالآخر وہ قدم اٹھا رہا ہے جو پہلے ہی 149 ممالک اٹھا چکے تھے، تو اسی وقت یہ "فلسطینی ریاست” بمباری، بھوک اور زمین کی چوری کے ذریعے مٹائی جا رہی ہے۔ برطانیہ ایک پیدائشی سرٹیفکیٹ تسلیم کر رہا ہے جبکہ اسرائیل اس کی آخری رسومات ادا کر رہا ہے۔
غزہ ایسی ریاست کا بنیادی جزو ہونا تھا، مگر اسرائیل کی نسل کشانہ جنگ مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔ باقی بچ جانے والی چند عمارتوں کی زندگی بھی مختصر ہے اور بدقسمتی سے یہی حال وہاں کے بیشتر لوگوں کا بھی ہو سکتا ہے۔ غزہ کا بڑا حصہ ایک انسان ساختہ قحط اور بیماریوں کی لپیٹ میں ہے جو اسرائیلی حکومت کی باضابطہ پالیسی کے تحت پیدا کیے گئے ہیں۔
تسلیم کرنا کافی نہیں
اگر برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک واقعی ایک قابلِ عمل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں تو انہیں سمجھنا ہوگا کہ رکاوٹ کبھی بھی محض تسلیم کرنا نہیں تھا۔ آج فلسطینی ریاست کہہ دینے سے زمینی حقائق نہیں بدلیں گے۔
یہ صرف الفاظ ہیں۔
برطانوی وزارتِ خارجہ کی سفری ہدایات اب مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا حوالہ دینے کے بجائے "فلسطین” کہتی ہیں، لیکن یہ نظرانداز کر دیا گیا ہے کہ یہ ریاست اب بھی اسرائیلی قبضے میں ہے۔
یہ اعلان اس وقت مؤثر ہو سکتا تھا اگر اسے اسرائیل پر سخت اور عملی پابندیوں کے ساتھ جوڑا جاتا۔
ابتدا ہی میں یہ ممالک انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کے نیتن یاہو کے خلاف جاری کردہ گرفتاری وارنٹ پر عملدرآمد کے لیے قدم اٹھا سکتے تھے۔ لیکن یہ سب ممالک اس معاملے میں ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ وہ ہر بار وائٹ ہاؤس کے ردعمل پر نظر رکھتے ہیں۔
اگر اسٹارمر، مارک کارنی، کینیڈا کے وزیرِاعظم اور آسٹریلیا کے وزیرِاعظم اینتھونی البانیز ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ پابندیاں بھی عائد کرتے، تو وہ بونوں کے بجائے سفارتی دیو دکھائی دیتے۔ ان پابندیوں میں اسرائیل کے ساتھ تمام فوجی اور سلامتی کے تعلقات ختم کرنا اور تجارتی روابط محدود کرنا شامل ہوتا۔
یہ تمام اقدامات قانونی ذمہ داری بنتے ہیں کیونکہ اقوامِ متحدہ کی کمیشن آف انکوائری نے گزشتہ ہفتے شائع کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔
جب یہ ممالک نئے فلسطینی سفیروں کو نئی سفارتخانوں میں خوش آمدید کہہ رہے تھے تو اسرائیلی سفیروں کو طلب کرکے باز پرس کی جانی چاہیے تھی۔
برطانیہ میں اسرائیلی سفیر ٹزیپی ہوتوویلی نے ملک چھوڑ دیا ہے، لیکن اس لیے نہیں کہ انہیں نکالا گیا جیسا کہ صورتحال کا تقاضا تھا، بلکہ صرف اس لیے کہ لندن میں ان کی مدت پوری ہو چکی تھی۔
بے کار سفارتکاری
یہ مغربی رہنما یہ وہم بھی پالتے ہیں کہ یہ اعلان اسرائیل پر مساوی دباؤ ڈالے گا۔
نیتن یاہو نے اس اعلان کو اپنی روایتی غرور اور جنون کے ساتھ مسترد کیا اور جیسا کہ اس کا حلقہ کہتا ہے، یہ تسلیم کرنا حماس کو انعام دینے کے مترادف ہے، حالانکہ وہ برسوں سے دنیا کو بتاتا رہا ہے کہ حماس دو ریاستی حل کو رد کرتی ہے۔
نیتن یاہو جانتا ہے کہ اس کے پاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت موجود ہے اور یورپی ممالک اس کو روکنے کے لیے اتنے کمزور اور منقسم ہیں کہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔
وہ جانتا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ جب ای-ون (E1) کا بڑا نوآبادیاتی منصوبہ نافذ ہوگا تو یہ ممالک کیا کریں گے؟ یہ منصوبہ جان بوجھ کر مقبوضہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا اور یروشلم کو اس کے فلسطینی مضافات سے کاٹ دے گا۔
وہ جانتا ہے کہ یہ قدم بھی اسے مغربی کنارے کو ویسے ہی تباہ کرنے سے نہیں روکے گا جیسے اس نے غزہ کے ساتھ کیا ہے، اور اس کے بیشتر حصے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی سے بالکل بے فکر ہے، شاید یہ واحد پہلو ہے جس سے فلسطینی کچھ حوصلہ پا سکتے ہیں۔
دباؤ کی عدم موجودگی اسرائیلی قیادت کو صرف مزید آگے بڑھنے پر اکسا رہی ہے۔ نیتن یاہو شاید یہ دیکھ کر ہنس رہا ہے کہ یہ رہنما کس قدر نااہل، بزدل اور ناکارہ ہیں۔
یہ سب محض بے مقصد اور غلط سمت میں جانے والی سفارتکاری ہے۔ اسٹارمر نے جولائی میں یہ شرائط عائد کی تھیں کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔ یہ ایک مضحکہ خیز بات تھی کہ ایک ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کسی تیسرے فریق کے رویے سے جوڑا جائے۔
تسلیم کرنا حقیقت اور حقوق کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ فلسطین ایک ریاست ہے، چاہے قابض ہو یا نہ ہو، اور فلسطینیوں کو خود ارادیت کا حق حاصل ہے۔
لیکن کسی بھی سنجیدہ مبصر نے اسٹارمر کو بتا دینا تھا کہ نیتن یاہو کی حکومت کبھی جنگ بندی پر راضی نہیں ہوگی، دو ریاستی حل کے لیے کوشش نہیں کرے گی یا غزہ میں امداد کی آزادانہ فراہمی کی اجازت نہیں دے گی۔
نیتن یاہو نے دوحہ میں حماس کی مذاکراتی ٹیم پر بھی بمباری کی تاکہ کوئی معاہدہ نہ ہو سکے۔ یہ واضح یاد دہانی ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی بھی اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ اس کی پوری اتحادی حکومت کا ایجنڈا فلسطینی ریاست کے وجود کو رد کرنے پر مبنی ہے۔ اس کی پالیسی ہے کہ غزہ کو بھوکا مار کر فلسطینی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کیا جائے۔
اگر وہ ان میں سے کسی ایک معاملے پر بھی پیچھے ہٹ جائے تو اس کی اتحادی حکومت ٹوٹ جائے گی۔
اسرائیل: ایک غاصب ریاست
فلسطین کے حوالے سے برطانیہ کا ہمیشہ ناکامیوں اور غلطیوں سے بھرا ہوا ریکارڈ رہا ہے۔
بار بار یہ تاریخ کے غلط طرف کھڑا ہوا ہے۔ اصولی طور پر، وہ ملک جس نے بالفور اعلامیہ لکھا، جو ایک چوتھائی صدی تک فلسطین کا مینڈیٹری طاقت رہا اور اسے برباد حالت میں چھوڑ گیا، اس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا معنی رکھنا چاہیے تھا۔
یہ تاریخی زخموں کو مندمل کرنے کے لیے ایک درستگی کے عمل کا آغاز بن سکتا تھا۔
یہ اب بھی ایک تاریخی قدم ہو سکتا ہے، مگر صرف اس وقت جب اسٹارمر حکومت اس غلط رخ اختیار کرنے والی سفارتکاری کو درست کرے۔
اگر اس تسلیم کرنے کو کسی مثبت اثر میں ڈھلنا ہے تو اسٹارمر کو یہ نظریہ ترک کرنا ہوگا کہ اسرائیل کسی اور حیثیت کا حامل ہے۔ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے اور برطانیہ و اس کے اتحادیوں کو اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا ہوگا جو انہوں نے ولادیمیر پیوٹن کی روس اور بشارالاسد کی شام کے ساتھ کیا تھا۔
اسے ممکن بنانے کے لیے برطانیہ کے اندر اور خاص طور پر لیبر پارٹی کے اندر مزید دباؤ ڈالنا ہوگا۔
اگر اسٹارمر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فلسطین کے معاملے پر کچھ مہلت حاصل کر لی ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ صرف نسل کشی کا خاتمہ ہی یہ ممکن بنا سکتا ہے۔

