پیونگ یانگ (مشرق نامہ) – شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے عندیہ دیا ہے کہ ملک نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ’’خفیہ ہتھیار‘‘ تیار کر لیے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے پیر کو اپنے خطاب میں کہا کہ پیونگ یانگ کو ’’مزید طاقتور افواج ذخیرہ کرنی چاہئیں جو تمام فوجی خطرات کو پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔‘‘ انہوں نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے کو غیر مستحکم کرنے والی ’’اشتعال انگیز کارروائیوں‘‘ میں ملوث ہیں، جو کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں اور شمالی کوریا کے سلامتی خدشات کو نظرانداز کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے شمالی کوریا نے ’’نئے خفیہ ہتھیار حاصل کیے ہیں اور دفاعی سائنس میں نمایاں تحقیقی کامیابیاں حاصل کی ہیں‘‘ تاہم اس کی تفصیل بیان نہیں کی۔
کم جونگ اُن نے مزید کہا کہ پیونگ یانگ نے ’’سمندری خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک اسٹریٹجک محور قائم کیا ہے، جس کے تحت ایسے ڈسٹرائرز تیار کیے گئے ہیں جو مختلف بحری فوجی مشنز سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
یہ بیانات اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں شمالی کوریا نے رواں ماہ کہا تھا کہ اس نے ہواسونگ-20 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے لیے سالڈ فیول انجن کا حتمی زمینی تجربہ مکمل کر لیا ہے، جو ممکنہ طور پر براعظمی امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گزشتہ ہفتے کم نے ٹیکٹیکل اٹیک ڈرونز، جنہیں کومسونگ کہا جاتا ہے، اور ایک اسٹریٹجک ری کونیسنس ڈرون کے تجربات کی نگرانی کی۔ مارچ میں وہ مصنوعی ذہانت سے لیس ’’خودکش ڈرونز‘‘ کے تجربات بھی دیکھ چکے ہیں۔
اپنے خطاب میں کم جونگ اُن نے ’’مرحلہ وار ایٹمی تخفیف‘‘ کے تصور کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور زور دیا کہ ’’ہم کبھی اپنے ایٹمی ہتھیار ترک نہیں کریں گے‘‘ جبکہ اس بات پر زور دیا کہ شمالی کوریا کا ایٹمی درجہ ’’قومی قانون‘‘ ہے۔
تاہم انہوں نے ایک مفاہمانہ لہجہ بھی اپنایا اور کہا کہ اگر امریکہ ’’ایٹمی تخفیف کی لاحاصل ضد ترک کر دے اور حقیقت کو تسلیم کر لے‘‘ تو دونوں ممالک کو تعلقات قائم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

