مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– دو انتہا پسند اسرائیلی وزراء نے کہا ہے کہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے طویل عرصے سے اتحادی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے اعتراف کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے (غرب اردن) کو فوری طور پر اسرائیل میں ضم کر دینا چاہیے۔
اتوار کو جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا فیصلہ ’’فوری جوابی اقدامات‘‘ کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس میں مغربی کنارے پر ’’فوری طور پر اسرائیلی خودمختاری کے نفاذ‘‘ اور ’’فلسطینی اتھارٹی کے مکمل خاتمے‘‘ کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ کابینہ اجلاس میں اس سلسلے میں باضابطہ تجویز پیش کریں گے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی ممالک کے عوامی دباؤ کے نتیجے میں برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک ریاست تسلیم کر لیا ہے اور اس ہفتے کئی یورپی ممالک بھی ایسا کرنے والے ہیں۔
انتہا پسند وزیر بیزالیل سموٹریچ نے بھی اتوار کو مغربی اتحادیوں پر فلسطین کو تسلیم کرنے پر تنقید کی۔ ان کے مطابق اب وہ دن گزر گئے جب برطانیہ یا دیگر ممالک اسرائیل کا مستقبل طے کرتے تھے۔ ان کے بقول اس اقدام کا واحد جواب مغربی کنارے پر مکمل اسرائیلی خودمختاری کا نفاذ اور فلسطینی ریاست کے تصور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔
انہوں نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی خودمختاری نافذ کریں۔ سموٹریچ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے 80 فیصد سے زائد علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکا جا سکے۔
حال ہی میں اسرائیل نے ایک بڑے نوآبادیاتی منصوبے ’’ای ون‘‘ کی منظوری دی ہے جس کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شمالی شہروں رام اللہ اور نابلس کو جنوبی شہروں بیت لحم اور الخلیل سے کاٹ دیا جائے گا اور مشرقی القدس کو بھی الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ بارہا خبردار کر چکی ہے کہ اسرائیلی بستیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ بین الاقوامی برادری، بشمول اقوامِ متحدہ، اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے۔
گزشتہ برس جولائی میں عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے ایک مشاورتی فیصلے میں اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں تمام بستیاں خالی کرائی جائیں۔
رواں سال کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے بھی کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور استحکام کی پالیسی ’’جنگی جرم‘‘ کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے سے تمام آبادکاروں کو نکالے اور دہائیوں پر محیط غیر قانونی بستیوں کے نقصانات کا ازالہ کرے۔ ترک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف بامعنی اقدامات کرے۔

