غزه (مشرق نامہ) – حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں کئی مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے اعتراف کے بعد فوری طور پر بین الاقوامی عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
اتوار کو جاری ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں اور نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکہ اس بات پر آمادہ ہیں کہ کسی سفارتی حل کی جانب بڑھا جائے۔ ان کے مطابق اسرائیل نہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، نہ مذاکرات چاہتا ہے اور نہ ہی اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ فلسطینی ریاست کے اعتراف سے ایک ایسا راستہ ہموار ہوگا جس کے نتیجے میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے۔
اسامہ حمدان نے نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قیادت قوم کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے اور یہ غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ فلسطینی جدوجہد کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق فلسطینی ریاست ضرور قائم ہوگی اور اس کا دارالحکومت القدس ہوگا، جب کہ صیہونی وجود کا مستقبل تاریک ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ بحران کا کوئی بھی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قبضے کے خاتمے، مسلسل جارحیت کو روکنے اور فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست کے قیام کے قابل بنانے کے لیے ایک جامع معاہدہ طے نہ پا جائے۔
یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف عالمی سطح پر غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔
اتوار کو پرتگال نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا اور اس طرح وہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد شامل ہونے والا نیا ملک بن گیا۔ یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے۔
بڑی مغربی طاقتوں اور اسرائیل کی دیرینہ اتحادیوں کے ایسے اعلانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ غزہ پر جاری نسل کشانہ جنگ کے باعث اسرائیل بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔
اگرچہ فلسطین کو تسلیم کرنا زیادہ تر علامتی نوعیت کا اقدام ہے، لیکن یہ عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت کو نمایاں کرتا ہے۔
البتہ ناقدین کے مطابق وہ ممالک جو اسرائیل کو مالی اور عسکری امداد فراہم کر رہے ہیں، ان کے ایسے اقدامات محض ایک حکمتِ عملی ہیں تاکہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعاون کو برقرار رکھتے ہوئے بظاہر عالمی عوامی رائے کے ساتھ کھڑے دکھائی دیں۔

