واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک کی فوج سے متعلق میڈیا رپورٹنگ پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت صحافیوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ غیر مجاز معلومات شائع نہیں کریں گے۔
وزارتِ جنگ (جو پہلے وزارتِ دفاع کہلاتی تھی) کی جانب سے جاری نئے ضابطوں کے مطابق اگر رپورٹرز یہ حلف نامہ سائن کرنے سے انکار کرتے ہیں تو ان کے فوجی معاملات کی کوریج کے اجازت نامے منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔
جمعے کو نیویارک ٹائمز کی جانب سے شائع ہونے والے میمو کے مطابق، جو میڈیا اداروں کو بھیجا گیا تھا، اس میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام معلومات کو عوامی کرنے سے پہلے ’’موزوں اتھارائزنگ افسر‘‘ کی منظوری لازمی ہوگی، چاہے وہ معلومات غیر خفیہ ہی کیوں نہ ہوں۔
ان اقدامات کے تحت ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں قائم پینٹاگون کی عمارت کے اندر صحافیوں کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی ہے، اور بیشتر حصوں کو بغیر سرکاری اہلکار کی معیت کے ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے۔
وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حوالے سے کہا کہ پینٹاگون کو ’’پریس نہیں بلکہ عوام‘‘ چلاتے ہیں۔ ان کے بقول، صحافی اب پینٹاگون کے حساس حصوں میں آزادانہ گھوم پھر نہیں سکیں گے، انہیں بیج پہننا ہوگا اور قوانین پر عمل کرنا ہوگا، ورنہ واپس جانا ہوگا۔
نیشنل پریس کلب کے صدر مائیک بالسامو نے ان اقدامات کو آزاد صحافت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں آزادانہ نگرانی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر فوج سے متعلق خبریں حکومت کی منظوری سے گزرنے کے بعد شائع ہوں گی تو عوام کو آزاد رپورٹنگ نہیں بلکہ صرف وہی دکھایا جائے گا جو حکام چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہر امریکی کے لیے تشویش کی بات ہونی چاہیے کیونکہ فوجی فیصلوں پر عوامی احتساب اور جنگ و امن کے معاملات کی شفافیت صرف آزاد رپورٹنگ کے ذریعے ممکن ہے۔
نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، وال اسٹریٹ جرنل اور روئٹرز سمیت کئی بڑے میڈیا اداروں نے بھی ان پابندیوں کی مذمت کی ہے۔
فریڈم آف دی پریس فاؤنڈیشن کے ایڈووکیسی ڈائریکٹر سیٹھ اسٹرن نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کے کئی فیصلے اس اصول کی تصدیق کرتے ہیں کہ میڈیا کو سرکاری راز شائع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہی تحقیقی صحافت کا بنیادی مقصد ہے اور قانون بھی یہ واضح کرتا ہے کہ حکومت کسی شخص سے اس کے آئینی حق، یعنی رازوں کو حاصل کرنے اور شائع کرنے کے حق سے دستبرداری کا معاہدہ کرنے کا تقاضا نہیں کر سکتی، چاہے اس کے بدلے میں سرکاری عمارتوں تک رسائی یا پریس کریڈینشلز ہی کیوں نہ دیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی ’’پری کنٹرول‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے، جو پہلی ترمیم کی سب سے سنگین خلاف ورزی ہے۔ جیسا کہ پینٹاگون پیپرز کیس میں واضح کیا گیا تھا، حکومت صرف اس دعوے کی بنیاد پر کہ کوئی اطلاع خفیہ یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، اسے شائع کرنے سے صحافیوں کو نہیں روک سکتی۔
یاد رہے کہ پینٹاگون پیپرز کیس (نیویارک ٹائمز کمپنی بنام ریاستہائے متحدہ، 1971) میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو ویتنام جنگ میں امریکی کردار سے متعلق خفیہ دستاویزات شائع کرنے کی اجازت ہے، جس سے آزادیٔ صحافت کا اصول مضبوط ہوا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے صحافت پر یہ نئی قدغنیں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب حکومت کی طرف سے میڈیا کو محدود کرنے کے کئی اقدامات پہلے ہی زیرِ بحث ہیں۔
بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نے اعلان کیا کہ اس نے جِمی کیمِل کے طویل عرصے سے جاری ٹاک شو کو معطل کر دیا ہے، کیونکہ فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) کے سربراہ نے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل پر میزبان کے تبصروں کے بعد ریگولیٹری کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
ایف سی سی کے سربراہ برینڈن کار، جو ٹرمپ کے نامزد کردہ ہیں، نے اشارہ دیا کہ حکومت ناقدانہ آوازوں کو مزید قابو میں لانے کے اقدامات کر سکتی ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی ایجنسی براڈکاسٹرز کو ’’عوامی مفاد کے مطابق‘‘ جواب دہ رکھے گی، اور جنہیں یہ بات پسند نہیں وہ اپنے لائسنس واپس کر دیں۔
اس سے چند دن پہلے ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کے خلاف 15 ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا، اس سے قبل وہ سی بی ایس نیوز، اے بی سی نیوز اور وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف بھی اسی نوعیت کے مقدمات کر چکے تھے۔ تاہم جمعے کو فلوریڈا کی ایک عدالت نے نیویارک ٹائمز کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا، یہ قرار دیتے ہوئے کہ اس میں ’’جانبدارانہ دلائل‘‘ اور ’’تکراری‘‘ نکات شامل ہیں اور اس میں ٹرمپ کی غیر متعلقہ طور پر تعریف بھی کی گئی ہے۔

