منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیکم: امریکا نے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا مطالبہ چھوڑا تو شمالی...

کم: امریکا نے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا مطالبہ چھوڑا تو شمالی کوریا بات چیت پر آمادہ ہے
ک

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)سیول کی نئی لبرل حکومت نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے میں قیادت کریں۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ اگر امریکا یہ اصرار چھوڑ دے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیار ترک کرے، تو امریکا کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پابندیاں ختم کرنے کے بدلے کبھی بھی اپنا ایٹمی ذخیرہ نہیں چھوڑیں گے۔ یہ بات ریاستی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کی۔

"ذاتی طور پر، مجھے اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشگوار یادیں ہیں،” شمالی کوریا کے سرکاری خبررساں ادارے کے سی این اے نے اتوار کو سپریم پیپلز اسمبلی میں کم کے خطاب کو نقل کرتے ہوئے کہا۔ ٹرمپ اور کم کے درمیان ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

کم کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سیول کی نئی لبرل حکومت ٹرمپ پر زور دے رہی ہے کہ وہ چھ سال بعد شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی قیادت کریں، کیونکہ 2018 کے بعد تمام امن بات چیت پابندیوں اور ایٹمی تخفیف کے معاملے پر ختم ہو گئی تھی۔

کم نے کہا: "اگر امریکا ہمیں غیر ایٹمی بنانے کے مضحکہ خیز جنون کو ترک کرے، حقیقت کو تسلیم کرے، اور حقیقی پُرامن بقائے باہمی چاہے، تو ہمارے پاس امریکا کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔”

یہ پہلا موقع ہے کہ جنوری میں ٹرمپ کے دوبارہ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد کم نے انہیں نام سے یاد کیا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹِمسن سینٹر سے وابستہ شمالی کوریا کی ماہر ریچل من یونگ لی نے کہا: "یہ ایک پیشکش ہے، گویا کم ٹرمپ کو دعوت دے رہے ہیں کہ امریکا اپنی غیر ایٹمی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے، اور اشارہ دے رہے ہیں کہ اگر امریکا اس مطالبے کو چھوڑ دے تو وہ ٹرمپ سے براہِ راست ملاقات کر سکتے ہیں۔”

کم کی ٹرمپ کے بارے میں مثبت باتوں کے برعکس، انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی جنوبی کوریا سے بات کریں گے، جسے انہوں نے اپنا "اہم دشمن” قرار دیا۔ ان کے مطابق شمالی کوریا کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا محض بقا کا معاملہ ہے تاکہ امریکا اور جنوبی کوریا سے لاحق سنگین خطرات کے مقابلے میں اپنی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اتحادیوں کی جانب سے باقاعدہ فوجی مشقوں کو "ایٹمی جنگ کی مشقیں” قرار دیا۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا کہ شمالی کوریا ہر سال 15 سے 20 ایٹمی بم تیار کر رہا ہے اور اگر اس پیداوار کو روکنے کا کوئی معاہدہ ہو جائے تو یہ مستقبل میں تخفیفِ اسلحہ کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا: "اس بنیاد پر ہم درمیانی مدت کے مذاکرات سے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کی طرف بڑھ سکتے ہیں اور طویل مدت میں، جب باہمی اعتماد بحال ہو اور شمالی کوریا کی سلامتی کے خدشات کم ہو جائیں، تو ہم غیر ایٹمی ہونے کی جانب پیش رفت کر سکتے ہیں۔”

کم نے اس مرحلہ وار منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ امریکا اور سیول کی حالیہ مذاکراتی پیشکشیں محض فریب ہیں کیونکہ ان کا بنیادی مقصد شمال کو کمزور کرنا اور اس کی حکومت ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لی کا مرحلہ وار منصوبہ بھی اسی کا ثبوت ہے۔

کم نے کہا: "دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ امریکا کسی ملک کو غیر ایٹمی بنانے اور اسلحہ چھوڑنے کے بعد کیا کرتا ہے۔ ہم کبھی بھی اپنے ایٹمی ہتھیار نہیں چھوڑیں گے۔”

کم کے مطابق پابندیاں شمالی کوریا کے لیے ایک "سبق آموز تجربہ” رہی ہیں جس نے ملک کو مزید مضبوط اور لچکدار بنایا ہے۔ یاد رہے کہ شمالی کوریا پر 2006 میں پہلی ایٹمی تجربے کے بعد سے اقوام متحدہ کی پابندیاں اور ہتھیاروں پر پابندی عائد ہے۔ ان پابندیوں نے اگرچہ مالی دباؤ ڈالا ہے، مگر پیونگ یانگ نے ایٹمی ہتھیاروں اور طاقتور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں پیش رفت جاری رکھی ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی نے کہا: "حقیقت یہ ہے کہ پابندیوں اور دباؤ کا پچھلا طریقہ مسئلے کا حل نہیں نکال سکا بلکہ اسے مزید سنگین بنا دیا ہے۔” انہوں نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ آئندہ ماہ جنوبی کوریا کے دورے کے موقع پر کم سے ملاقات کرنے کی کوشش کریں۔

البتہ اسٹِمسن سینٹر کی لی کا کہنا ہے کہ کم کے حالیہ ریمارکس اس بات کی کوشش لگتے ہیں کہ وہ جنوبی کوریا کو اس عمل سے باہر رکھیں۔ ان کے مطابق: "شاید کم چاہتے ہیں کہ لی کی حکومت سے پہلے وہ خود پہل کریں اور ٹرمپ انتظامیہ کو جنوبی کوریا کے ساتھ تعاون سے روکیں، یہ دہرا کر کہ جنوبی کوریا ایک الگ ملک ہے اور شمالی کوریا کے ایٹمی مسئلے کا فریق نہیں بن سکتا۔”

صدر لی نے تسلیم کیا کہ پیونگ یانگ جنوبی کوریا سے بات کرنے سے انکاری ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کوئی ٹھوس مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار طریقہ کار اب بھی حقیقت پسندانہ حل ہے۔

ان کے بقول: "اب ہمارا سب سے اہم کام یہ ہے کہ مذاکرات کے لیے حالات پیدا کیے جائیں۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین