منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیاہم امریکی اتحادی فلسطین کے معاملے پر راستے جدا کرنے لگے

اہم امریکی اتحادی فلسطین کے معاملے پر راستے جدا کرنے لگے
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اہم امریکی اتحادیوں نے فلسطین کے معاملے پر اپنی پالیسی بدلتے ہوئے نئی راہ اختیار کی ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا، جسے فلسطینی قیادت نے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ یہ اقدام کئی دہائیوں کی مغربی پالیسی سے انحراف ہے اور اس نے اسرائیل کو سخت برہم کر دیا ہے، جس نے اعلان کیا کہ وہ ایسے کسی بھی فیصلے کو روکنے کے لیے ڈٹا رہے گا۔ توقع ہے کہ فرانس اور دیگر ممالک بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آغاز پر اسی طرح کے فیصلے کریں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جی-سیون ممالک میں شامل کسی ریاست نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے، جس سے وہ امریکہ اور اسرائیل کے موقف کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی امید کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ہے اور یہ کسی طور حماس کے لیے انعام نہیں۔ کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی اپنے بیانات میں فلسطینی عوام کی دیرینہ خواہشات کو تسلیم کرنے اور ایک پرامن مستقبل کی تعمیر کی حمایت کی۔ پرتگالی وزیرِ خارجہ نے اسے دو ریاستی حل کے تحت ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی جانب قدم قرار دیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس فیصلے کو ناگزیر قرار دیا جبکہ حماس نے اسے فلسطینی حقوق کی فتح کہا۔

اسرائیل نے ان فیصلوں کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہوگی۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کو مزید بڑھایا جائے گا اور اردن کے مغرب میں فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی۔ اسرائیلی صدر اور وزراء نے بھی ان فیصلوں کو امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور بعض نے مغربی کنارے کے مکمل الحاق کا مطالبہ کیا۔

دنیا کے تین چوتھائی ممالک فلسطین کو پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں لیکن جی-سیون ممالک کی شمولیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ برطانیہ کا فیصلہ تاریخی حوالہ بھی رکھتا ہے کیونکہ اس نے 1917 کا بالفور اعلامیہ جاری کیا تھا۔ اندرونِ ملک اسٹارمر کی حکومت پر عوامی دباؤ بڑھ رہا تھا کیونکہ غزہ میں اسرائیلی حملوں پر مسلسل احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے اور نوجوان نسل بڑی تعداد میں فلسطین کو تسلیم کرنے کے حق میں تھی۔

یہ فیصلے غزہ کی تباہ کن جنگ کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں جہاں اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 65 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں اور قحط کی صورتحال ہے۔ غزہ کے متاثرین نے اسے اخلاقی فتح قرار دیا ہے، اگرچہ کچھ لوگ اس کے عملی اثرات کے حوالے سے شکوک کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

امریکہ اب بھی اس فیصلے کی مخالفت کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ فلسطینی ریاست صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فرانس نے بھی کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی سفارتخانہ نہیں کھولا جائے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ محض تسلیم کرنے سے زیادہ اقدامات درکار ہیں، مثلاً اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے پابندیاں اور اسلحے کی برآمد پر روک۔ اسرائیل کے اندر بھی یہ معاملہ تقسیم کا باعث بن گیا ہے، لیکن فلسطینی عوام کے لیے یہ ایک علامتی مگر اہم امید ہے کہ ان کی جدوجہد کو دنیا میں مزید سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین