منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستان37 سال اور 22 ارب ڈالر بعد بھی پولیو ختم نہ ہو...

37 سال اور 22 ارب ڈالر بعد بھی پولیو ختم نہ ہو سکا
3

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)37 سال کی طویل کوششوں اور 22 ارب ڈالر کے اخراجات کے باوجود پولیو کے خاتمے میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB) کی تازہ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ روایتی طریقۂ کار اب غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور اگر نئی حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو پروگرام ناکام ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا پولیو کے خاتمے کے ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں مالی مشکلات، جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں اور وائرس کی مستقل گردش نے منصوبے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کا ’’شیشے کا پہاڑ‘‘ روایتی اقدامات کے ذریعے ناقابلِ تسخیر ہے اور اس کے لیے نئی سوچ، ادارہ جاتی جرات اور سب سے بڑھ کر متعلقہ ممالک کی واضح ملکیت لازمی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو دوبارہ وائرس سے متاثرہ ’’تاریخی مراکز‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں بورڈ نے تجویز دی ہے کہ ان دونوں ممالک میں جنگلی پولیو وائرس کے خاتمے کی ذمہ داری ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرۂ روم ریجن (EMRO) وزارتی کمیٹی کو منتقل کی جائے، تاکہ یہ تاثر زائل ہو کہ پولیو کا خاتمہ مغربی ایجنڈا ہے، اور اسے خطے کی اپنی ترجیح کے طور پر اپنایا جائے۔

رپورٹ میں کئی بنیادی خامیاں اجاگر کی گئی ہیں، مثلاً ایسی فنڈنگ جو نتائج کے بغیر جاری رہتی ہے، ویکسینیشن پروگرام سے غیر مربوط اقدامات، حکومتی ملکیت کا فقدان، اور جواب دہی کے ایسے نظام جو حقیقی نتائج کے بجائے محض رپورٹس تیار کرتے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پروگرام میں ڈھانچہ جاتی تبدیلی اور سخت جواب دہی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ نے پاکستان کے ان دعوؤں پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ 2021 سے 2023 کے درمیان پولیو کی منتقلی رک گئی تھی۔ بورڈ کے مطابق یہ پیش رفت دراصل کووڈ-19 کی وہ پابندیاں تھیں جنہوں نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا، نہ کہ پولیو پروگرام میں کوئی بنیادی بہتری آئی۔ ایک پاکستانی ماہر نے بھی رپورٹ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ حکومتی ملکیت کی کمی اور جواب دہی کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق، پروگرام کو حکومت کے تحت حقیقی معنوں میں منتقل کرنا، ای پی آئی کے ساتھ یکجا کرنا، اور کمزور کارکردگی دکھانے والے عناصر کو اعلیٰ سطح پر جواب دہ بنانا ہی کامیابی کی واحد راہ ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین