صنعا (مشرق نامہ) – یمن کے سیاسی مصنف اور محقق عیسیٰ المسوی نے کہا ہے کہ 21 ستمبر کا انقلاب یمن کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا، جسے انہوں نے دہائیوں کے جمع شدہ مصائب سے جنم لینے والی ایک حقیقی عوامی بغاوت قرار دیا۔
المسوی نے زور دے کر کہا کہ انقلاب نے قومی فیصلہ سازی اور خودمختاری کو بحال کیا، جو طویل عرصے سے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے قبضے میں تھی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انقلاب سے قبل یمن کی خودمختاری پامال ہوچکی تھی، امریکی اور سعودی سفارت کار حساس ترین امور میں مداخلت کرتے تھے، جبکہ امریکی ڈرونز یمنی فضاؤں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں کو نشانہ بناتے تھے — جسے انہوں نے ایک بالواسطہ قبضے کی شکل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ انقلاب کی نمایاں ترین کامیابیوں میں سے ایک امریکی اہلکاروں کو امریکی سفارتخانے سے نکالنا تھا، جسے انہوں نے "ذلت آمیز اور شکست خوردہ انخلا” قرار دیا۔ ان کے مطابق اس نے واضح فرق نمایاں کیا کہ انقلاب کے بعد کا یمن عالمی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، برخلاف ان عرب حکومتوں کے جو امریکی و اسرائیلی دباؤ کے سامنے جھک جاتی ہیں۔
المسوی کے مطابق انقلاب نے ایک مضبوط عسکری ادارہ تشکیل دیا جس نے یمن کو ایک کمزور ریاست سے بدل کر علاقائی طاقت بنا دیا، جو اب بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کا بنیادی مقصد خودمختاری اور آزادانہ فیصلہ سازی کی بحالی تھا، جو حاصل ہوچکا ہے، اور اب یمن اپنی سمندری حدود پر کنٹرول قائم کرنے کے ساتھ جارح قوتوں کے خلاف اسٹریٹجک میزائل حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض کمزوریاں بھی سامنے آئیں، جیسے پرانے نظام کے باقیات کے ساتھ غیر ضروری نرمی، جس نے اندرونی سازشوں کو جنم دیا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ 21 ستمبر کا انقلاب بڑے بڑے چیلنجز کے باوجود قائم رہا ہے — چاہے وہ 18 ممالک پر مشتمل اتحاد کی جنگ ہو، معاشی جارحیت ہو یا اندرونی ریشہ دوانیاں۔
المسوی نے خبردار کیا کہ آج انقلاب کو مزید بڑے عالمی دباؤ کا سامنا ہے، بالخصوص یمن کی فلسطین کی حمایت اور عالمی تسلط پسندی کی مخالفت کی پالیسی کے باعث۔ انہوں نے داخلی خطرات سے ہوشیاری اور انقلاب کے رہنما سید عبدالملک الحوثی کی قیادت میں اتحاد پر زور دیا، اور کہا کہ یمن کی مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک کو قابض قوتوں اور ان کے ایجنٹوں سے مکمل طور پر آزاد نہ کر دیا جائے۔
انقلاب سے قبل، امریکی سفیر یمن میں اصل فیصلہ ساز تھا، جو ہر شعبے پر اپنی مرضی مسلط کرتا تھا۔ لیکن انقلاب کے بعد، امریکی سفیر یمن سے فرار ہوگیا اور امریکی میرینز بھی دارالحکومت صنعاء میں سفارتخانے کے قریب قائم اپنے فوجی مرکز کو خالی کر گئے، جو یمنی سیاسی فیصلوں کے کنٹرول کا مرکز تھا۔
المسوی کے مطابق، انقلاب کے بعد یمنی عوام نے آزادی اور خودمختاری کا ذائقہ چکھا ہے۔ انقلاب کے بڑے اہداف میں سے ایک یمن کی قومی شناخت کا تحفظ تھا، خاص طور پر اس غیر ملکی مداخلت کے مقابلے میں جو یمنی عوام کی دینی اقدار کو نشانہ بنا رہی تھی۔

