بیروت (مشرق نامہ) – لبنان کی مزاحمتی تحریک کے سیکرٹری جنرل نے تمام مسلم اقوام پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ ایجنڈے کے مقابلے کے لیے اتحاد قائم کریں، جو پورے مغربی ایشیائی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے یہ بات جمعے کے روز بیروت میں اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو حزب اللہ کے سینئر کمانڈر ابراہیم عقیل اور ان کے ساتھیوں کی پہلی برسی کے موقع پر منعقد ہوئی۔ انہیں اسرائیل نے شہید کیا تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک ایسی توسیع پسندانہ سوچ پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت "گریٹر اسرائیل” کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جو مغربی ایشیا کے نقشے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے عزائم رکھتا ہے۔
شیخ قاسم نے کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کا واحد راستہ مشترکہ دشمن کے خلاف اتحاد ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل دراصل ایک امریکی اور مغربی نوآبادیاتی توسیع پسند منصوبہ ہے جو خطے پر غلبہ پانے اور اس کی آزادی و خودمختاری کو سلب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ غاصب صیہونی وجود امریکہ کا آلہ کار ہے، خطے کے لیے ایک ڈراوا ہے اور توسیع پسندی کے ذریعے خطے کو اس کی آزادی اور خودمختاری سے محروم کر رہا ہے۔
شیخ قاسم نے اسرائیل کے قیام کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صیہونی وجود بیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی اور پھر امریکی سامراجی حمایت سے خطے میں بویا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سفاکیت، بربریت اور انسانی، قانونی و بین الاقوامی اصولوں کی پامالی کی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور اس سارے عمل کو امریکی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
مزید برآں انہوں نے ستمبر میں قطر پر اسرائیلی حملے سمیت حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسرائیلی منصوبے کو بے نقاب کرتے ہیں اور خطے کی اقوام کے لیے واضح پیغام ہیں۔ ان کے مطابق دوحہ پر حملے کے بعد اب نشانہ ہر اس جغرافیائی اور سیاسی رکاوٹ تک جا پہنچا ہے جو "گریٹر اسرائیل” منصوبے کی راہ میں حائل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی منصوبہ فلسطین، لبنان، اردن، مصر، شام، عراق، سعودی عرب، یمن اور ایران سمیت خطے کے بیشتر ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔
مزاحمت کے ساتھ "نئے باب” کی اپیل
شیخ قاسم نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ مزاحمت کے ساتھ تعلقات کا ایک "نیا باب” کھولے جو تین اصولوں پر مبنی ہو: تنازعات اور خدشات کے حل کے لیے مکالمہ، یہ تسلیم کرنا کہ دشمن مزاحمت نہیں بلکہ اسرائیل ہے، اور ماضی کے اختلافات کو منجمد کرنا۔
اپنی تقریر کے دیگر حصوں میں انہوں نے خبردار کیا کہ مزاحمت پر دباؤ ڈالنا صرف اسرائیل کو فائدہ دے گا، اور اگر مزاحمت کو ختم کر دیا گیا تو خطے کی اقوام غیر محفوظ ہو جائیں گی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف ہیں، کسی اور ملک کے خلاف نہیں۔ شیخ قاسم نے واضح کیا کہ لبنانی مزاحمتی تحریک اپنے ہتھیار کبھی نہیں ڈالے گی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ لبنان کے ساتھ 14 ماہ کی جنگ کے بعد ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان کے پانچ اہم مقامات پر قابض ہے، جن میں لَبّونہ، جبل بْلات، عُوَیدہ پہاڑی، عازیہ اور حَمامیص پہاڑی شامل ہیں، جو سب سرحد کے قریب واقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملے اور لبنانی فضائی و زمینی حدود کی خلاف ورزیاں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں، تاہم حزب اللہ اب بھی واحد قابلِ اعتماد عسکری قوت ہے جو قبضے کو چیلنج کر سکتی ہے اور اسرائیلی دراندازی کو روک سکتی ہے۔
ہتھیار ڈالنے کی سازش مسترد
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کے سیاسی مشیر حسین الخلیل نے بھی واضح طور پر مزاحمتی گروہ کے ہتھیار ڈالنے کے منصوبوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ عرب اقوام کو امریکہ اور اسرائیل کی مرضی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
الخلیل نے بیروت کے ریڈیو النور کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کے مضبوط مؤقف نے حکام کو بیرونی دباؤ میں آ کر مزاحمت کے ہتھیار چھیننے کی غیر ملکی مسلط کردہ تجاویز پر عملدرآمد سے روک دیا ہے۔

