صنعا (مشرق نامہ) – یمن کی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے ویٹو استعمال کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ ویٹو اُن دس غیر مستقل اراکین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کے خلاف استعمال کیا گیا جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وزارت نے کہا کہ یہ اقدام غزہ کی پٹی میں جاری اجتماعی قتلِ عام میں امریکہ کی شراکت کا ایک اور ثبوت ہے۔
وزارت نے ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں نشاندہی کی کہ اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک امریکہ چھ مرتبہ ویٹو کا سہارا لے چکا ہے، جبکہ گزشتہ آٹھ دہائیوں میں درجنوں بار اس نے ایسی قراردادوں کو روکا ہے جن کا مقصد قبضے کے خاتمے یا اسرائیلی بستیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنا تھا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ کے قیام کو اسّی برس گزرنے اور سلامتی کونسل کے دس ہزار سے زائد اجلاسوں کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ کونسل کی اصلاح کی جائے، خصوصاً اس کے رکنیت کے نظام اور ووٹنگ کے طریقۂ کار کی۔ وزارت نے کہا کہ یہ ادارہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے بجائے امریکی مفادات کا یرغمال بن چکا ہے جو فلسطینی جانوں اور حقوق کی قیمت پر اسرائیل کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
یمن نے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی ان تحقیقات کا خیر مقدم کیا جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان جرائم کے خاتمے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کردار ادا کرے۔
بیان میں فلسطینی عوام اور ان کے مزاحمتی جنگجوؤں کی غزہ اور پورے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جدوجہد میں یمن کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
امریکہ نے سلامتی کونسل میں اس قرارداد کو ویٹو کیا جس میں غزہ میں فوری جنگ بندی اور مکمل انسانی ہمدردی پر مبنی رسائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس وقت غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 65 ہزار 208 سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، شہید ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 66 ہزار 271 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ فوجی یلغار 7 اکتوبر 2023 سے جاری ہے۔
گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے، جن میں غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ذکر کیا گیا تھا۔
اسرائیل کو غزہ کے محصور ساحلی علاقے میں اپنی جنگ کے باعث عالمی عدالت انصاف میں بھی نسل کشی کے مقدمے کا سامنا ہے۔

