مقبوضہ فلسطين (مشرق نامہ) – اسرائیلی برآمدات شدید نقصان کی زد میں ہیں کیونکہ دنیا بھر کے خریدار غزہ پر جاری جنگ کے باعث معاہدے منسوخ کر رہے ہیں، جس سے معیشت میں بڑے بحران اور کریڈٹ ڈاؤن گریڈ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتوں میں اسرائیل کے تجارتی تعلقات میں غیر معمولی زوال سامنے آیا ہے، یہاں تک کہ روایتی طور پر "دوستانہ” سمجھے جانے والے ممالک کے ساتھ بھی معاہدے اور ملاقاتیں منسوخ کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی برآمد کنندگان نے بتایا کہ یورپ اور امریکا میں کئی کمپنیوں نے معاہدوں کی تجدید سے انکار کر دیا ہے، جبکہ متعدد مارکیٹنگ نیٹ ورکس نے اعلان کیا ہے کہ وہ "تاحکم ثانی” اسرائیلی مصنوعات کی درآمد روک رہے ہیں۔
اسی تناظر میں وائے نیٹ نے خبر دی کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کے ماہرین کا وفد تل ابیب کا دورہ کرنے کے بعد نہایت تشویشناک تاثرات کے ساتھ واپس لوٹا۔ ایک عہدیدار نے کہا: "اگر دو ہفتوں کے اندر اندر ریٹنگ میں کمی نہ کی گئی تو یہ کسی معجزے سے کم نہ ہوگا۔”
ایک اعلیٰ اقتصادی اہلکار نے، جس نے موڈیز کے نمائندوں سے ملاقات کی، خبردار کیا کہ جنگ کے دوران دفاعی اخراجات میں بے تحاشا اضافے نے سنگین موڑ پیدا کر دیا ہے اور اس سے بجٹ پر کنٹرول ختم ہونے کا خطرہ ہے، جس کے نتیجے میں خسارہ اور قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔
اسرائیلی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر رون ٹومر نے تصدیق کی کہ "اسرائیلی برانڈ” کو شدید نقصان پہنچا ہے اور معیشت برسوں پیچھے جا سکتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک "دوست ملک” نے اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ ملاقاتوں کی تصاویر حذف کرنے کی درخواست کی تاکہ سیاسی شرمندگی سے بچا جا سکے۔
ایک برآمد کنندہ نے بتایا کہ صورتحال اُس وقت مزید بگڑ گئی جب غزہ پر قبضے کے اعلان کے ساتھ ہی عمارتوں اور مساجد پر بمباری اور عام شہریوں کی شہادتوں کی ویڈیوز تیزی سے پھیلنے لگیں۔ ان کے مطابق یہ مناظر اب نظرانداز نہیں کیے جا سکتے اور اسرائیل دنیا بھر میں مکمل تنہائی اور بائیکاٹ کا شکار ہو چکا ہے۔
71 فیصد منسوخ شدہ معاہدے غزہ جنگ سے جڑے
اسرائیلی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک سروے کے مطابق، جس میں 132 صنعتکار شامل تھے، تقریباً نصف برآمد کنندگان نے معاہدوں کے ختم ہونے یا تجدید نہ ہونے کی شکایت کی۔ 71 فیصد نے بتایا کہ ان منسوخیوں کی وجہ سیاسی عوامل اور غزہ جنگ ہے۔
سروے کے مطابق یورپی یونین سب سے زیادہ سرگرم رہی جہاں 84 فیصد صنعتکاروں نے بتایا کہ انہوں نے معاہدے کھو دیے۔ حیران کن طور پر 31 فیصد نے بتایا کہ امریکا میں بھی ان کے ساتھ یہی ہوا۔
سروے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ 76 فیصد برآمد کنندگان کی برآمدات براہ راست متاثر ہوئیں، بعض کمپنیوں میں یہ نقصان کل برآمدات کے 40 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا۔ مزید یہ کہ نصف سے زائد نئے خریدار اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے سے انکاری ہیں، جبکہ 49 فیصد برآمد کنندگان شپنگ، کسٹمز اور بندرگاہوں میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین معیشت اس بحران کو غزہ پر جنگ کے اثرات اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیانات سے جوڑ رہے ہیں، جن میں انہوں نے اسرائیل کو "بند نظام” میں تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ اس اعلان نے سرمایہ کاروں کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے، جو بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات اور خسارے کے مزید بگاڑ سے پریشان ہیں۔

