رِمینی کے میئر کی اپیل پر اٹلی کے سیاحتی میلے TTG ٹریول ایکسپیرینس سے اسرائیل کی شمولیت منسوخ کر دی گئی۔
روم (مشرق نامہ) – میئر جمیل صادغلوواد اور ایمیلیا-رومانا ریجن کے سربراہ میکیلے دے پاسکالے نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی موجودگی "عدم مساوات” کی نمائندگی کرے گی۔ انہوں نے منتظم ادارے اٹالین ایگزیبیشن گروپ (IEG) پر زور دیا کہ اسرائیل کا اسٹال ختم کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ آج اخلاقی اور انسانی اعتبار سے یہ درست ہے کہ جنگ، دہشت اور موت کی سرزمینوں کو چھٹیوں کی منزل کے طور پر پیش کیا جائے۔
یہ فیصلہ اسرائیل کے خلاف جاری عالمی بائیکاٹ تحریک کا حصہ ہے، جو غزہ میں اس کے مظالم اور وحشیانہ جنگ کے ردعمل میں زور پکڑ رہی ہے۔ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں لاشیں تاحال ملبے تلے دبی ہیں۔
عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ مہم تیز
بین الاقوامی بائیکاٹ کے تحت امریکا کے نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں 17 ستمبر کو "#GameOverIsrael” مہم شروع کی گئی، جس میں یورپی فٹبال فیڈریشنز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کا بائیکاٹ کریں۔ مہم کے مطابق بیلجیم، انگلینڈ، فرانس، یونان، آئرلینڈ، اٹلی، ناروے، اسکاٹ لینڈ اور اسپین کی فیڈریشنز کو کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی قومی ٹیم کو مسترد کریں اور اسرائیلی کھلاڑیوں کو اپنی مقامی لیگز میں کھیلنے کی اجازت نہ دیں۔
ثقافتی بائیکاٹ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے RTVE نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو شرکت کی اجازت دی گئی تو وہ یورووژن 2026 سنگ کانٹیسٹ کا بائیکاٹ کرے گا۔ یہ اقدام یورویژن کے بڑے مالی معاونین میں سے کسی ملک کی جانب سے اسرائیل کے خلاف پہلا اعلان ہے۔ آئرلینڈ اور سلووینیا نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کی حمایت کریں گے۔
اکیڈمک میدان بھی متاثر ہوا ہے۔ اسرائیل کے ویزمین انسٹی ٹیوٹ کے سائنٹیفک کونسل کے سربراہ نیر ڈیوڈزون نے انکشاف کیا کہ ایران کے حالیہ جوابی حملے میں ادارہ شدید نقصان کا شکار ہوا ہے اور اب اسے عالمی تعلیمی برادری میں بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا: "جو کچھ دہائیوں میں بنایا گیا تھا، وہ غزہ جنگ کی وجہ سے برباد ہو رہا ہے۔ حتیٰ کہ قریبی دوست بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ اب ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر سکتے۔”
ثقافتی میدان میں بھی بڑے پیمانے پر بائیکاٹ سامنے آیا ہے۔ دنیا بھر کے سینکڑوں اداکاروں، ہدایتکاروں اور فلمی کارکنوں نے اسرائیلی ثقافتی اداروں کے ساتھ کسی بھی تعاون سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ ادارے فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی اور نسلی امتیاز میں شریک ہیں۔
اس عہد پر 1,200 سے زائد شخصیات نے دستخط کیے جن میں نامور فلم ساز یورگوس لانتھیموس، آوا ڈوورنائے، عاصف کپاڈیا، بوٹس رائلی اور جوشوا اوپن ہائمر شامل ہیں۔ معروف اداکاروں میں اولیویا کولمین، مارک رَفلو، ٹلڈا سوئنٹن، خاویر بارڈم، رِز احمد، آیو ایڈیبری، جوش او کونر اور ٹلڈا سوئنٹن جیسے نام شامل ہیں۔

