منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرکیا غزہ کے زیتون محلے کی ’’قسام‘‘ کی شاندار کاروائی نیتن یاہو...

کیا غزہ کے زیتون محلے کی ’’قسام‘‘ کی شاندار کاروائی نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کو تباہ کر دے گی؟
ک

کیا عراق میں امریکی فوجی اڈے ایران کے ساتھ ٹکراؤ سے پہلے خالی ہو جائیں گے؟

عبدالباری عطوان

القصام بریگیڈز، جو اسلامی مزاحمتی تحریک ’’حماس‘‘ سے وابستہ ہیں، نے اسرائیلی فوج کو ایک سبق سکھایا اور اس کی قیادت کو شکست دی۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب انہوں نے زیتون محلے میں اپنے جنگجوؤں کو نہایت مہارت سے تیار کیے گئے جال میں پھنسا کر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد فوجی ہلاک ہوئے اور 11 سے زیادہ زخمی ہو گئے، جن میں سے چار کی حالت نازک بتائی گئی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مزاحمتی فورسز چار اسرائیلی فوجیوں کو زندہ گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

یہ میدانی فتوحات، جنہیں اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت آحرونوت‘‘ کے فوجی ایڈیٹر نے اس طرح بیان کیا کہ القصام بریگیڈز کے جنگجوؤں نے گھات لگا کر حملوں میں مہارت اور اسرائیلی افواج کو بھاری نقصان پہنچانے کی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، ایک طرح سے اس بڑے حملے کی ’’پیش کش‘‘ یا ’’نمونہ‘‘ ہیں جس کی تیاری نیتن یاہو اور ان کے فوجی سربراہ غزہ پر قبضے اور شہر کو تباہ کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔

مزاحمت اس حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس کے پاس اب بھی اسلحہ اور فوجی سازوسامان موجود ہے تاکہ وہ اس کا مقابلہ کر سکے۔ حالیہ گھات لگا کر کیے گئے حملوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اسرائیل کی یہ امید کہ 22 ماہ کی شاندار استقامت کے بعد مزاحمت کے وسائل ختم ہو جائیں گے، غلط ثابت ہوئی۔ مزاحمت نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ اپنے پاس موجود بیس زندہ قیدیوں کی جانوں کی حفاظت کی ذمہ دار نہیں ہے، اور یہ قیدی اسرائیلی فوج کے گولیوں اور میزائلوں کی زد میں مارے جا سکتے ہیں جو ’’انہیں آزاد کرانے‘‘ کے بہانے علاقے پر حملہ آور ہوں گے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ زمین بھی اپنے لوگوں کے ساتھ لڑتی ہے، اور جتنے زیادہ قابض فوجی آئیں گے اتنے ہی زیادہ ان میں سے مارے جائیں گے۔

ایک اسرائیلی فوجی کو پکڑ لینا، چاہے وہ زیتون کی لڑائی میں ہو یا اگلے بڑے حملے میں، نتن یاہو اور اس کی سخت گیر اتحادی حکومت کے لیے سب سے کاری ضرب ہوگی اور اسے جیل کی کوٹھڑی میں باقی وقت گزارنے پر مجبور کر دے گی، جب تک کہ اس کا قتل نہ کر دیا جائے۔ القصام بریگیڈز نے ایک نہیں بلکہ چار فوجیوں کو پکڑ لیا ہے، اور اب سب اس بڑے اعلان کے منتظر ہیں جب ’’حماس‘‘ ان نئے چار قیدیوں کی تصاویر جاری کرے گی، جنہیں اسرائیلی فوجی قیادت نے چھپا رکھا ہے۔

یہ ناکامیاں صرف اسرائیلی فوج کو نہیں، بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی متاثر کریں گی جو غزہ میں جاری نسل کشی کی مہم کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں اور نیتن یاہو پر زور دے رہے ہیں کہ ’’مشن کو جلد مکمل کرے‘‘۔ ’’ٹرمپ‘‘ کو لاحق یہ کنفیوژن، اور ان کا یہ فیصلہ کہ وہ ’’صدر‘‘ محمود عباس اور ان کے وفد کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکیں تاکہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس اور اس کے ضمن میں ہونے والی اس کانفرنس میں شریک نہ ہو سکیں جس کا مقصد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت تھا، شاید اس حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

یہ پابندی دراصل امریکہ کا ’’انعام‘‘ ہے صدر محمود عباس کے لیے، جو اوسلو معاہدوں کے معمار ہیں۔ انہوں نے فلسطین کی تاریخی زمین کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ اور واپسی کا حق ترک کر دیا، فلسطینی سکیورٹی فورسز قائم کیں تاکہ قبضے اور آبادکاروں کی حفاظت کریں، اور مغربی کنارے میں 8 لاکھ افراد کی بستیوں کو ’’جائز‘‘ بنا دیا۔

آئندہ تین ماہ مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی متوقع لڑائی کے گواہ ہو سکتے ہیں جو صہیونی بستیوں کے منصوبے کے خاتمے کا اشارہ ہوگی۔ غزہ کے زیتون محلے میں بہادرانہ مزاحمت، یمنی ہائپر سونک میزائل جو کلسٹر وارہیڈ کے ساتھ تل ابیب کے اندر گہرائی میں اپنے ہدف تک پہنچا اور تمام فضائی دفاعی نظاموں کو توڑتے ہوئے بھاری جانی و مالی نقصان کا باعث بنا، حزب اللہ کا وہ قریبی ردعمل جو لبنان میں اسرائیلی اشتعال انگیزیوں پر اپنے درست نشانے والے میزائلوں کے ساتھ سامنے آ سکتا ہے اور اس کی یہ تیاری کہ اگر اسے غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ جنگ کے لیے تیار ہے، نیز عراق میں امریکی فوجی اڈوں کا انخلا—یہ سب مل کر آنے والے دنوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین