کاشغر، 20 ستمبر(مشرق نامہ) (اے پی پی)
صدر آصف علی زرداری نے ہفتہ کے روز کاشغر یونیورسٹی کا دورہ کیا، جو جنوبی سنکیانگ کا ایک ممتاز اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال پارٹی سیکریٹری ڈنگ بانگ وین، فیکلٹی اراکین اور طلبہ نے کیا۔
اس موقع پر کاشغر کے سی پی سی پارٹی سیکریٹری یاو نِنگ بھی موجود تھے۔ صدر کو یونیورسٹی کی تاریخ اور کام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ یہ ادارہ 1962 میں قائم ہوا اور 2015 میں مکمل یونیورسٹی کا درجہ حاصل کیا۔ آج کاشغر یونیورسٹی تعلیم اور ثقافتی تبادلے کا ایک علاقائی مرکز ہے۔
یونیورسٹی کے تین کیمپسز ہیں اور یہاں 40,000 سے زائد طلبہ اور اساتذہ موجود ہیں، جن میں سیکڑوں غیر ملکی طلبہ بھی شامل ہیں۔ آئندہ برسوں میں یہ تعداد تقریباً 50,000 تک پہنچنے کی توقع ہے۔ صدر زرداری نے سائنس، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، زراعت، سوشیال سائنسز، فنون، ثقافت، موسیقی اور رقص جیسے مختلف شعبوں میں یونیورسٹی کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ یہ ادارہ پاکستان کے قریب ترین چینی یونیورسٹی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان علمی اور ثقافتی تبادلے کا پل ہے۔ پاکستان-چین اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو اجاگر کرتے ہوئے صدر نے نوجوانوں اور تعلیم میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا تاکہ طویل المدتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
صدر کو یونیورسٹی میں قائم چائنا-پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) سنٹر کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر تحقیق اور تعاون میں مدد فراہم کرتا ہے۔
صدر زرداری نے طلبہ اور اساتذہ سے بات چیت کی اور انہیں علمی و ثقافتی روابط کو مزید گہرا کرنے کی ترغیب دی۔ پاکستانی طلبہ، جن میں سے اکثر گلگت، ہنزہ، دیر اور چترال سے تھے، سے ملاقات میں انہوں نے تعلیم اور رہائش کے معیار کے بارے میں دریافت کیا۔
طلبہ نے بتایا کہ ان کی فیس اور رہائش کے اخراجات مکمل طور پر چینی حکومت برداشت کرتی ہے اور انہیں کھانے اور دیگر ضروریات کے لیے وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سخت محنت کریں اور پاکستان-چین دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے وزیر سید ناصر حسین شاہ، چین میں پاکستان کے سفیر اور پاکستان میں چین کے سفیر بھی صدر کے ہمراہ تھے۔

