کراچی(مشرق نامہ):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل تجارت کے شعبے میں اپنے خطے کے دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان کی ڈیجیٹل تجارت صرف 7.93 ارب ڈالر رہی جبکہ ملائیشیا، فلپائن اور تھائی لینڈ کی ڈیجیٹل معیشت کئی گنا بڑی ہے۔ اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کی کمزور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، جدید ڈیٹا سینٹرز کی کمی، غیر مربوط پے منٹ سسٹمز، صارفین کے تحفظ اور سائبر کرائم قوانین کا ناقص نفاذ اور بکھری ہوئی ریگولیشنز اس زوال کی بڑی وجوہات ہیں۔ مزید برآں پاکستان نے ابھی تک بین الاقوامی معاہدوں جیسے UNESCAP کے "کراس بارڈر پیپرلیس ٹریڈ فریم ورک” کی توثیق بھی نہیں کی، جس کی وجہ سے وہ عالمی ڈیجیٹل سپلائی چین میں شامل ہونے سے محروم ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے فوری طور پر پالیسی اصلاحات، ریگولیٹری ہم آہنگی اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری نہ کی تو وہ خطے میں اپنی مسابقت کھو دے گا اور معاشی ترقی کے مواقع سے مزید دور ہو جائے گا۔

