کراچی(مشرق نامہ): اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے مالی سال 2026 (FY26) کے لیے اپنی شرح نمو (Growth) کی پیش گوئی کم کردی ہے اور خبردار کیا ہے کہ تباہ کن سیلاب حقیقی جی ڈی پی میں اضافے کو پہلے سے دیے گئے 3.25 فیصد تا 4.25 فیصد کے تخمینے کی نچلی حد تک محدود رکھیں گے۔ تاہم نجی شعبے کے ماہرین اس سے بھی زیادہ مایوس کن منظرنامہ پیش کر رہے ہیں۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پیش گوئی کو کم کرکے صرف 2.75 فیصد تا منفی 0.25 فیصد کر دیا ہے، جو پہلے 3.5 فیصد تا 4 فیصد تھی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے پر زرعی نقصانات اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ ہیں۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب اور شدید بارشوں نے زراعت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جو دیگر بڑے معاشی اشاریوں پر بھی اثر انداز ہوگی۔ یہ نیا تخمینہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز بعد (25 ستمبر 2025 کو) آئی ایم ایف اپنے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام (EFF) کا دوسرا نیم سالانہ جائزہ لے گا۔
ٹاپ لائن کا کہنا ہے کہ زرعی ترقی کی شرح 3.4 فیصد سے گھٹ کر 2.6 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ اہم فصلوں میں 2.3 فیصد کمی متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق، چاول اور کپاس کو بالترتیب 15 فیصد اور 10 فیصد نقصان کا سامنا ہے۔
چند روز پہلے عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) نے بھی زرعی پیداوار کے حوالے سے اپنی پیش گوئی کم کردی تھی۔ AHL کی ثناء توفیق کے مطابق: "ہمیں توقع ہے کہ سیلاب کے بعد جی ڈی پی کی شرح نمو 3.46 فیصد سے کم ہو کر 3.17 فیصد تک آجائے گی۔”
ابتدائی اندازوں کے مطابق 2025 کے سیلاب کا معاشی نقصان 409 ارب روپے (1.4 ارب ڈالر) ہے جو جی ڈی پی کا 0.33 فیصد بنتا ہے۔ صرف زرعی شعبے میں نقصان 302 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے ڈھانچے کو 97.6 ارب روپے اور رہائشی مکانات کو 8.95 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مویشیوں کا نقصان نسبتاً کم رہا جو 0.5 ارب روپے ہے۔
ٹاپ لائن کے ڈائریکٹر ریسرچ شنکر تلریجہ کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 تا 0.5 فیصد کے بالائی حصے تک جا سکتا ہے، کیونکہ درآمدات میں 10 فیصد اضافہ جبکہ برآمدات میں صرف 1 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ تاہم ترسیلات زر کو بڑھا کر 40.2 ارب ڈالر (6 فیصد اضافہ) کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
سیلاب نے غذائی اجناس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کردیا ہے۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں 38 تا 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سبزیوں میں بھی تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا۔ مالی سال 2026 میں افراطِ زر اب 6.5 تا 7.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو پہلے 6 تا 7 فیصد تھی۔ صرف ستمبر کے مہینے میں غذائی افراطِ زر ماہ بہ ماہ 8 تا 9 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ماہرین اور کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ زرعی پیداوار میں کمی نہ صرف ملکی ضروریات پر اثر ڈالے گی بلکہ خوراک کی برآمدات کو بھی متاثر کرے گی۔ سندھ آبادگار بورڈ کے صدر محمود نواز شاہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سندھ میں کپاس کی فصل 40 فیصد زیادہ آئی ہے، جس سے کچھ نقصانات پورے ہو سکتے ہیں۔ چاول کی پیداوار بھی نسبتاً بہتر رہنے کی توقع ہے۔
مالیاتی پالیسی کے حوالے سے ٹاپ لائن کا کہنا ہے کہ اب شرحِ سود 10 فیصد کی بجائے 11 فیصد پر برقرار رہے گی۔ اسی طرح بجٹ خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کا 4.8 فیصد جبکہ محصولات کا ہدف 13.6 کھرب روپے متوقع ہے۔
ٹاپ لائن کے مطابق، دباؤ کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام برقرار رہے گا۔ حکومت نے زرعی ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے اور متاثرہ گھروں کے لیے بجلی کے بلوں میں رعایت پر غور ہورہا ہے۔
بیرونی قرضوں کی ضرورت 10.5 تا 11.5 ارب ڈالر ہے، اور جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کی امید ہے۔ روپے کی قدر 292 تا 297 روپے فی ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
ٹاپ لائن نے کہا کہ ریکوڈک سمیت جاری اصلاحات اور نجکاری کے اقدامات معیشت کو سہارا دیں گے۔ اگرچہ سیلاب نے قلیل مدتی مسائل پیدا کیے ہیں، لیکن اصلاحاتی عمل پاکستان کو بحالی کی طرف لے جائے گا۔

