مشروط تسلیمات کا محور اسرائیل کی سلامتی ہے، نہ کہ فلسطینی عوام کا حقِ خودارادیت یا حقیقی جوابدہی
تحریر: سومدیپ سین
بین الاقوامی برادری کو چاہیے تھا کہ اسرائیل کو سرکش ریاست قرار دیتی۔ لیکن جیسے ہمیں اس کی بدمعاشی کے ثبوت پہلے ہی کافی نہ ملے ہوں، 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر پر حملہ کر ڈالا، جو کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا ایک کلیدی ثالث تھا۔ یہ سب اس وقت ہوا جب غزہ کی تباہی روز بروز گہری ہوتی جارہی ہے۔
غزہ شہر کی آخری بلند عمارتیں بھی زمین بوس کی جارہی ہیں اور لاکھوں افراد، جو پہلے ہی بارہا بے گھر ہوچکے ہیں، کو دَوبارہ جنوبی علاقے کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ جنوب ایک "انسانی ہمدردی کا علاقہ” ہے، مگر ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ غزہ میں کہیں بھی فلسطینی محفوظ نہیں۔
ایسے میں یہ جشن منانا بالکل بے معنی لگتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں 142 رکن ممالک نے "ٹھوس، وقت مقررہ اور ناقابلِ واپسی اقدامات” کی حمایت کی تاکہ اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کے طور پر دو ریاستی فارمولا قائم کیا جا سکے۔ اس قرارداد کو صرف 12 ممالک نے مسترد کیا، جن میں اسرائیل اور امریکہ شامل ہیں۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے، غزہ میں اپنی حکمرانی ختم کرے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے تاکہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو سکے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ غزہ اب بھی جل رہا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی برادریوں کو منظم طریقے سے مٹایا جارہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فلسطینی ریاست کی بات کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اور ایسی ریاست کس کے لیے یا کس چیز کے لیے ہوگی؟
اس ووٹ سے قبل دنیا کی بھاری اکثریت پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کرچکی تھی۔ جن ممالک کی کمی تھی، وہ زیادہ تر عالمی شمال کے ممالک تھے۔
اب اس ووٹ کے ذریعے فرانس، پرتگال، برطانیہ، مالٹا، بیلجیم، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے، گویا وہ عالمی اکثریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن یہ واضح رہے کہ ان ممالک کے پاس اخلاقی برتری کا کوئی جواز نہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے دو سال تک جاری اسرائیلی نسل کشی کا انتظار کیا، جس نے کم از کم 65 ہزار فلسطینیوں کی جان لے لی، اس کے بعد فلسطینی ریاست کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اکتوبر 7، 2023 سے قبل اسرائیلی اور مصری فوجی محاصرے کے دوران بھی انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی بستیوں کے پھیلاؤ اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافے پر بھی کوئی قدم نہ اٹھایا۔ درحقیقت 1948 سے لے کر آج تک ان ممالک نے کبھی بھی فلسطینی حقِ خودارادیت کی حمایت میں کچھ نہیں کیا۔
تو پھر اس بار یہ سب مختلف کیسے ہوسکتا ہے؟
اصل میں، یہ کچھ مختلف نہیں۔ بین الاقوامی قانون کی ماہر نورا عرقات نے الجزیرہ کو بتایا کہ "یہ سب بہت کم، اور بہت دیر سے ہے۔” ان بیانات کا مقصد صرف اس حقیقت سے توجہ ہٹانا ہے کہ انہی ممالک نے مالی اور فوجی طور پر اسرائیل کو نسل کشی کرنے کے قابل بنایا۔
ثبوت اس پیش کردہ فلسطینی ریاست میں ہی ہے۔ اور یہ واضح ہے کہ فلسطینی حقوق ان کی ترجیح نہیں۔
چند ہفتے قبل برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا تھا کہ برطانیہ ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو اس وقت تک تسلیم کرے گا جب تک اسرائیل "غزہ کی ہولناک صورتحال ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کرے، جنگ بندی پر راضی نہ ہو اور دو ریاستی حل کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے طویل المدت امن کے لیے پرعزم نہ ہو۔” اس بیان میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت یا قومی جدوجہد کی مشروعیت کا کوئی ذکر نہ تھا۔ بلکہ یہ سب اسرائیل کو سزا دینے کے تناظر میں تھا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسرائیل نسل کشی روک دیتا اور محض زبانی جمع خرچ کرتا تو برطانیہ شاید ووٹ نہ دیتا؟
کینیڈا کے وعدے کے ساتھ بھی کئی شرائط جڑی ہوئی ہیں۔ کینیڈین حکومت کی ویب سائٹ پر "اسرائیلی-فلسطینی تنازع پر پالیسی” میں سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ وہ "اسرائیل اور اس کی سلامتی کی حمایت” کرتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے، بشرطیکہ یہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہوں۔ لیکن اگر اسرائیل پہلے ہی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جیسا کہ فی الحال ہے، تو کیا کینیڈا پھر بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے گا؟
اسرائیل کی حمایت دہرانے کے بعد، کینیڈا فلسطینی عوام کے "حقِ خودارادیت” اور "ایک خودمختار، آزاد، قابلِ بقا، جمہوری اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست” کی حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کئی شرائط ہیں، جن میں فلسطینی اتھارٹی کی گورننس اصلاحات، فلسطینی ریاست کا غیر مسلح ہونا اور 2026 کے انتخابات شامل ہیں، جن میں حماس کا کوئی کردار نہ ہو۔
آسٹریلیا کا وعدہ بھی اسی طرح کی شرائط پر مبنی تھا، جن میں فلسطینی اتھارٹی کو قیدیوں کی ادائیگی ختم کرنے، تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے اور ریاست کو غیر مسلح کرنے کا کہا گیا۔ اس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حماس غزہ میں اپنی حکمرانی ختم کرے اور ہتھیار ڈال دے۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ اور وزیر اعظم انتھونی البانیز نے مشترکہ بیان میں کہا: "فلسطینی ریاست کی تعمیر میں ابھی بہت کام باقی ہے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک قابلِ اعتماد امن منصوبے پر کام کریں گے جو فلسطین کے لیے حکمرانی اور سلامتی کے انتظامات قائم کرے اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائے۔” لیکن فلسطینیوں کی سلامتی کا کیا؟ کیا آسٹریلیا کوئی اقدام کرے گا تاکہ انہیں اسرائیل کی اجتماعی قتل و غارت سے بچایا جا سکے؟ یا پھر فلسطینی محض ایسی ریاست کی تعمیر پر مجبور ہیں جسے مغربی طاقتیں برداشت کر سکیں، جبکہ یہ امید لگائیں کہ اسرائیلی حکومت اپنی نسل کشی کی مہم سے کبھی تھک جائے گی؟
اس تمام دردناک المیے کی اذیت یہ ہے کہ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ جب کسی امن عمل میں اسرائیل کی سلامتی کو فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت پر فوقیت دی جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ اسے اوسلو معاہدہ کہا جاتا تھا، جس میں فلسطینی ریاست کی کوئی حقیقی ضمانت کبھی موجود ہی نہ تھی۔
ایڈورڈ سعید نے اپنے مضمون "دی مارننگ آفٹر” میں اس بے ہودگی پر افسوس کیا تھا جس کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں اوسلو معاہدے پر دستخط ہوئے اور یاسر عرفات نے جس حقیر انداز میں شکریہ ادا کیا۔ سعید نے کہا کہ اوسلو معاہدہ ریاست کی طرف کوئی راستہ نہیں تھا بلکہ اس نے "فلسطینی سرنڈر کے حیرت انگیز پیمانے” کی نمائندگی کی۔
اس کے نتیجے میں ایک فلسطینی اتھارٹی وجود میں آئی — جی ہاں، وہی اتھارٹی جس پر آج مغربی رہنما تکیہ کرتے ہیں — جو ریاست کے تمام لوازمات رکھتی تھی مگر حقیقی ریاست کبھی نہ آئی۔ اسرائیل نے مکمل استثنا کے ساتھ فلسطینیوں کو مٹانے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ اور فلسطینی اتھارٹی ایک نوآبادیاتی منصوبے کی توسیع بن گئی، جو اسرائیلی افواج کے ساتھ تعاون کر کے فلسطینی قومی تحریک کو فعال طور پر کمزور کرتی رہی، سب اسرائیل کی سلامتی کے نام پر۔
چنانچہ اگر مغربی رہنما واقعی بحران "حل” کرنے میں سنجیدہ ہیں تو واحد اچھا حل وہی ہے جو فلسطینی حقوق کو مرکزیت دے اور اسرائیل کی بدمعاشانہ روش کو روکنے کے لیے کوئی ایسا سیاسی دباؤ اور مواخذے کا نظام شامل کرے۔ اس کے بغیر، فلسطینی ریاست کی کوئی بھی تسلیم صرف ایک خالی تماشا ہوگا، اور اسرائیلی نسل کشی و صفایا مکمل استثنا کے ساتھ جاری رہے گا۔

