منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ دوبارہ بگرام ایئر بیس پر قابض ہونا چاہتا ہے

امریکہ دوبارہ بگرام ایئر بیس پر قابض ہونا چاہتا ہے
ا

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان کے شمال مشرق میں واقع بگرام ایئر بیس کو طالبان کے حوالے کرنا ایک بڑی غلطی تھی اور واشنگٹن اس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔

امریکی فوجیوں نے جولائی 2021 میں اس ایئر بیس کو عجلت میں خالی کیا تھا، جس کے ایک ماہ بعد طالبان نے کابل پر قبضہ کر کے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کا خاتمہ کر دیا اور ملک میں 20 سالہ امریکی قبضے کا اختتام ہوا۔

ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایئر بیس کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے حالیہ دورے کے دوران نئی افغان حکومت سے اس مسئلے پر بات چیت کی گئی ہے اور امریکہ اس بیس کو واپس چاہتا ہے۔

انہوں نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اس بیس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مقام چین کے ان علاقوں سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جہاں ایٹمی ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں۔

بگرام ایئر بیس کی لوٹی ہوئی حالت اور وہاں چھوڑے گئے فوجی ساز و سامان کی تصاویر اور ویڈیوز امریکہ کی افغان جنگ میں ناکامی کی علامت بن گئیں۔

اگرچہ اپنی پہلی صدارت میں ٹرمپ نے دفاعی ذمہ داریوں کو افغان حکام کے حوالے کرنے کے معاہدے کیے تھے، لیکن انہوں نے کابل کے سقوط کا الزام سابق صدر جو بائیڈن پر عائد کیا اور امریکی فوجیوں کے افراتفری میں انخلا کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیا۔

افغان وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار ذاکر جلالی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ افغان عوام امریکی فوج کی واپسی کو مسترد کریں گے۔ ان کے مطابق افغانستان اور امریکہ کو باہمی احترام کی بنیاد پر سیاسی و اقتصادی تعلقات رکھنے چاہئیں لیکن امریکی افواج کو ملک کے کسی بھی حصے میں فوجی موجودگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سوویت دور میں تعمیر ہونے والا یہ فضائی اڈہ اس وقت طالبان کی زیر قیادت افغان وزارتِ دفاع کے کنٹرول میں ہے۔ ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ چین اس بیس کو استعمال کر رہا ہے، تاہم کابل نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے اور ان کے حق میں کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین