منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ فنڈ ریزر میں شوبز شخصیات کی شرکت

غزہ فنڈ ریزر میں شوبز شخصیات کی شرکت
غ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)لندن میں او وی او ایرینا ویمبلے بدھ کی شب فلسطین کے حق میں نعروں سے گونج اٹھا جب 12,500 افراد نے غزہ کے لیے برطانیہ کا سب سے بڑا فنڈ ریزنگ کنسرٹ دیکھا۔ ٹُوگیدر فار فلسطین (T4P) کے عنوان سے منعقدہ اس ایونٹ کے تمام ٹکٹ فروخت ہو گئے، جن کی قیمت £70 (95 ڈالر) رکھی گئی تھی، اور منتظمین کے مطابق رات کے اختتام تک کم از کم 20 لاکھ ڈالر جمع ہو گئے۔ اس تقریب کو براہ راست نشر بھی کیا گیا تاکہ دنیا بھر میں لوگ اس کا حصہ بن سکیں۔ یہ کنسرٹ برطانوی دارالحکومت میں فلسطین کے حق میں مظاہروں اور ثقافتی تقریبات کی ایک نئی کڑی تھا، جس میں فنکاروں، سیاسی پیغام رسانی اور انسانی ہمدردی کو یکجا کیا گیا۔ اس سطح پر ہونے والا یہ اجتماع لندن میں فلسطین کے حق میں اب تک کی سب سے بڑی ثقافتی و سیاسی تقریب قرار دیا گیا۔

کنسرٹ کی قیادت برطانوی موسیقار و سرگرم کارکن برائن اینو نے کی، جنہوں نے بتایا کہ محض ایک سال پہلے تک برطانیہ میں کوئی بڑا مقام ایسے ایونٹ کے لیے دستیاب نہ ہوتا جس کے عنوان میں “فلسطین” کا ذکر ہو۔ ان کے بقول: "اسرائیل نے سمجھا تھا کہ پوری آبادی کو بھوکا رکھنا سب کو قابلِ قبول ہوگا، مگر حالات نے لوگوں کے خیالات بدل دیے۔” مشہور اداکار بینیڈکٹ کمبربچ، فلورنس پیو، نکولا کاؤگلن، رچرڈ گیر، صحافی مہدی حسن، فٹبال لیجنڈ ایرک کانٹونا اور دستاویزی فلم ساز لوئس تھرو سمیت کئی نمایاں شخصیات نے فلسطین کے حق میں اظہارِ یکجہتی کیا۔ فلسطینی گلوکار سینٹ لیوانٹ سمیت پال ویلر، پورٹس ہیڈ، ڈیمون البارن (گوریلاز) اور لندن عرب آرکسٹرا نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جبکہ اسٹیج پر فلسطینی فنکار مالک مَتّر کے آرٹ ورکس بھی آویزاں کیے گئے، جنہوں نے ثقافتی مزاحمت کا پیغام اجاگر کیا۔

شرکا نے فلسطینی پرچم لہرائے اور اسرائیل کے خلاف پابندیوں کے مطالبے کے نعرے لگائے۔ اداکارہ فلورنس پیو نے کہا: "ایسی تکالیف کے سامنے خاموش رہنا غیر جانبداری نہیں بلکہ شراکت داری ہے۔” نکولا کاؤگلن نے زور دیا کہ "بہت سے فنکار کروڑوں مداح رکھتے ہیں لیکن اس وقت خاموش ہیں، اور یہ خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔” اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی فرانسیسکا البانیزے نے تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا: "غزہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ فلسطین آزاد ہوگا اور ہم سب آزاد ہوں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ طاقت اور اثر رکھنے والوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں اور ڈر کے بغیر آواز اٹھائیں۔

اس تقریب سے حاصل ہونے والی تمام رقم برطانوی خیراتی ادارے چُوز لَو کے ذریعے فلسطینی تنظیموں، بشمول تعاون (Taawon) اور فلسطینی چلڈرنز ریلیف فنڈ تک پہنچائی جائے گی۔ فلسطینی فنکار مالک مَتّر کے مطابق یہ صرف ایک علامتی تقریب نہیں بلکہ عملی مدد کی ایک شکل ہے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ اجتماع نہ صرف موسیقی اور فن کا مظہر تھا بلکہ ایک احتجاجی پیغام بھی تھا۔ برائن اینو نے کہا: "یہ منظر ایک نئے دور کی نشانی ہے، فلسطین کے حق میں آواز اب مرکزی دھارے کا حصہ بن چکی ہے۔” یہ کنسرٹ فن، سیاست اور انسانی ہمدردی کے امتزاج کا ایک تاریخی مظہر تھا، جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اب نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین