مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)–جاپان نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ غالباً امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کو برقرار رکھنے اور "اسرائیل” کے ممکنہ سخت ردعمل سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے جاپانی اخبار اساہی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاع دی، جس میں نام ظاہر نہ کرنے والے حکومتی ذرائع کو نقل کیا گیا۔
دوسری جانب، غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے تناظر میں بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔
گزشتہ ہفتے خبر رساں ایجنسی کیوڈو نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ نے مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے جاپان پر زور دیا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرنے سے گریز کرے۔ اس کے برعکس، فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اپنے جاپانی ہم منصب پر زور دیا تھا کہ جاپان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔
جاپان کا موقف
منگل کے روز ایک پریس بریفنگ میں وزیر خارجہ تاکیشی ایوایا نے کہا کہ جاپان فلسطینی ریاست کے حوالے سے جامع جائزہ لے رہا ہے، جس میں اس کو تسلیم کرنے کا وقت اور طریقہ کار بھی شامل ہے۔ بدھ کے روز چیف کابینہ سیکرٹری یوشی ماسا ہایاشی نے اسی مؤقف کو دہرایا۔
انہوں نے غزہ سٹی میں اسرائیلی زمینی یلغار پر "سنگین بحران کے احساس” کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل کی بنیادیں منہدم ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ "اسرائیل” فوری طور پر قحط سمیت انسانی بحران ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
پارلیمانی دباؤ
ایک غیر جانب دار پارلیمانی گروپ، جس میں حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں، نے 11 ستمبر کو وزیر خارجہ ایوایا کو ایک درخواست پیش کی جس پر 206 دستخط تھے۔ اس میں فلسطین کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایوایا نے جواب میں کہا کہ دستخطوں کی تعداد کے پیش نظر اس درخواست کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور وزارت خارجہ اس پر مزید غور کرے گی۔
اگرچہ جاپان ان 142 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں جمعے کے روز ایک قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، جس میں دو ریاستی حل کے لیے "ٹھوس، وقت مقررہ اور ناقابلِ واپسی اقدامات” پر زور دیا گیا تھا، تاہم اساہی اخبار کے مطابق جاپانی وزیراعظم شیگیرو ایشیبا 22 ستمبر کو نیویارک میں ہونے والی متعلقہ میٹنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔

