لندن (مشرق نامہ) – برطانیہ جمعہ کے روز فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جسے "اسرائیل” نے مسترد اور امریکہ نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آ رہا ہے کہ "اسرائیل” جنگ بندی جیسے شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا، جن سے اس اقدام کو مؤخر کیا جا سکتا تھا۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے زور دیا کہ یہ قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے متعلق نہیں۔ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس فیصلے سے متفق نہیں، لیکن مزید وضاحت کرنے سے گریز کیا۔
توقع ہے کہ "اسرائیل” کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آئے گا، جو اس اقدام کو فلسطینی مزاحمت کے لیے انعام قرار دے رہا ہے۔ تاہم لندن نے اس مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تصور میں صرف وہ فلسطینی ریاست شامل ہے جس میں حماس کو مکمل طور پر مسلح حیثیت سے محروم، اقتدار سے باہر اور فلسطینی اتھارٹی کو ایک سال کے اندر انتخابات کرانے پر مجبور کیا جائے۔
اسٹارمر نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ حماس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو گی اور اسے دہشت گرد قرار دیا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ایک روڈمیپ کی ضرورت پر متفق ہیں۔
وزیراعظم نے تسلیم کیے جانے کو ’’اس مجموعی پیکج کا حصہ‘‘ قرار دیا جس سے ان کے بقول موجودہ سنگین صورتحال سے نکل کر ایک محفوظ اسرائیل اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے۔
امریکی و یورپی تناظر
ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر "دو ریاستی حل” کی حمایت سے پیچھے ہٹتے ہوئے برطانیہ کے فیصلے کو غیر مددگار قرار دیا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اس معاملے کو اسٹارمر کے ساتھ اختلاف کی بنیاد بنانے سے گریز کیا اور اسے زیادہ تر علامتی قرار دیا، جو "اسرائیل” کو کمزور نہیں کرے گا۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نجی طور پر وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی ناخوش ہیں، خاص طور پر جنگ بندی پر انکار اور گزشتہ ہفتے قطر پر بمباری کے فیصلے پر۔
برطانیہ طویل عرصے تک تسلیم کرنے سے گریز کرتا رہا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ یہ اقدام اسی وقت ہونا چاہیے جب وہ امن عمل پر معنی خیز اثر ڈال سکے۔ تاہم فرانس کے ساتھ قریبی مشاورت کے بعد، جس نے 25 جولائی کو فلسطین کو تسلیم کیا، لندن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مزید تاخیر سے "اسرائیل” کے اقدامات مغربی کنارے میں مستقل طور پر فلسطینی ریاست کے امکانات کو ختم کر سکتے ہیں۔
فلسطینی ردعمل اور اندرونی بحث
پیر کے روز لندن میں فلسطینی مشن کے سربراہ حسام زملط نئی فلسطینی سفارت خانہ پر پرچم لہرائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد برطانیہ اور فلسطین کے درمیان ریاستی سطح پر سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں گے۔ تاہم حکومت کو دی گئی قانونی رائے کے مطابق اس سے برطانیہ پر "اسرائیل” کو اس کے غیر قانونی قبضے پر پابندیاں لگانے کی کوئی نئی ذمہ داری عائد نہیں ہو گی۔
برطانیہ کے اندر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مونٹیویڈیو کنونشن کے ریاستی معیار کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ فلسطین کی سرحدیں متنازع ہیں اور اس کی حکمرانی منقسم ہے۔
تاہم لیبر پارٹی کے اندر "اسرائیل” پر نسل کشی کے الزامات نے مزید سخت اقدامات کے مطالبات کو تقویت دی ہے، جن میں "اسرائیل” کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

