اُرومچی(مشرق نامہ)، 18 ستمبر (اے پی پی): صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کے روز اُرومچی میں سنکیانگ اسلامی انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا اور خطے میں مسلمانوں کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان بہتر فہم و آگاہی کے فروغ میں علمی اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
صدر زرداری کا استقبال انسٹی ٹیوٹ کے صدر مختیری سیفو نے کیا جنہوں نے بتایا کہ یہ ادارہ باقاعدہ دینی تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ علماء، ائمہ اور خطباء کی تربیت میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ انسٹی ٹیوٹ دینی تعلیم کو جدید علوم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ طلبہ اپنے دین اور معاشرے دونوں کی خدمت کرسکیں۔
انسٹی ٹیوٹ میں قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان، علمِ کلام اور دیگر دینی مضامین کے ساتھ ساتھ تاریخ، کمپیوٹر لٹریسی، اخلاقیات اور سائنس جیسے عمومی مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ نصاب میں چینی زبان (مینڈارن)، سول قانون اور علاقائی مذہبی پالیسیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی کیمپس میں تقریباً ایک ہزار طلبہ کے لیے گنجائش موجود ہے جبکہ سنکیانگ کے دیگر حصوں میں ذیلی ادارے بھی قائم ہیں۔ اس میں مرکزی مسجد، کتب خانہ، لیکچر ہالز، کلاس رومز، ہاسٹلز اور انتظامی عمارتیں شامل ہیں۔ طلبہ کو دورانِ تعلیم وظیفہ، رہائش اور کھانے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
2001 سے اب تک 28 ہزار سے زائد فارغ التحصیل طلبہ خطے کے مختلف مذہبی، تعلیمی اور انتظامی اداروں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ اسلامی متون کے ترجمے اور اشاعت کے علاوہ حج کے انتظامات میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، پاکستان کے سفیر برائے چین اور چین کے سفیر برائے پاکستان بھی موجود تھے۔

